کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ اسٹیل مل کی نجکاری کے عمل کو شفاف بنایا جائے۔ فروخت کے معاہدے میں اسٹیل کی قیمت طے کرنے کا شفاف فارمولہ بنایا جائے یا پھر انہیں امپورٹڈ اسٹیل کے ساتھ آزادانہ مسابقت کا پابند کیا جائے۔ ملازمین کے واجبات ادا کرنا بھی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ اسٹیل مل کی نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم کو غیر ملکی قرضوں سے نجات کے لئے مختص کیا جائے۔ 1228 ایکڑ زمین کو الگ بیچنے کا منصوبہ اچھا ہے لیکن اس زمین کی بندر بانٹ نہیں ہونی چاہیے۔ مارکیٹ ریٹ پر زمین کو فروخت کیا جائے۔ پی ٹی آئی کے کراچی کے ایم این ایز اور ان کے فرنٹ مین کو اس عمل سے دور رکھا جائے۔ ملک ریاض کراچی کی کافی زمینیں ہڑپ کرچکے ہیں، انہیں تعمیرات کے شعبے میں مونوپولی قائم کرنے سے روکنے کے لئے اس نجکاری سے دور رکھا جائے۔ ہندوستانی نزاد مٹل پہلے ہی اسٹیل مل کو خریدنے کے لئے پیرنٹ کمپنی کے ماتحت کمپنی بنا چکے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پاکستان کے دشمن ممالک براہ راست یا بالواسطہ اس اسٹریٹجک اہمیت کے ادارے کو نہ خرید سکیں۔ عمران خان کی حکومت نے عوام کو سابقہ حکمرانوں سے زیادہ مایوس کیا ہے اس لئے عوام کا اسٹیل مل کی نجکاری کے موقع پر تشویش میں مبتلا ہونا فطری امر ہے۔ اضافی زمین کو فروخت نہ کیا جائے بلکہ خریدنے والی کمپنی اگر اسٹیل مل کی توسیع میں دلچسپی رکھتی ہو تو اضافی زمین برائے فروخت انہیں دستیاب ہو۔ نجکاری میں تاخیر کی وجہ سے اسٹیل مل کا خسارہ اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ادارہ سات سال سے بند ہے لیکن اخراجات کی مد میں پچپن ارب کا اور اضافہ ہوگیا۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہے تو حکومت اسٹیل ملز کے کنٹرولنگ شیئرز اپنے پاس رکھے اور مینجمنٹ کنٹرول سے دستبردار ہو جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں اسٹیل مل کی نجکاری پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے مزید کہا کہ اسٹیل مل کی نجکاری کے عمل سے تمام مافیاز کو دور رکھنے کا خصوصی بندوبست کیا جائے مزید برآں اسٹیل مل کو دوبارہ چلانے کے لئے اس کی نجکاری کی جائے تاکہ عوام کو روزگار اور حکومت کو ٹیکس کے ذریعے آمدنی حاصل ہو سکے۔ نجکاری سے پہلے اس ادارے کے ملازمین کے تمام واجبات ادا کئے جائیں۔ سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ روس کے اسٹیل مینوفیکچرز کو اسے فروخت کیا جائے کیونکہ موجودہ اسٹیل مل روس کی ٹیکنالوجی ہے۔ کسی ایک ملک کی مونوپولی کے دور رس نتائج نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی فروخت کی طرح کی حماقت کا اعادہ نہ کیا جائے۔ اسٹیل مل ایسے ادارے کو بیچا جائے جو اس شعبے کے ماہر ہوں۔ چائنا پہلے ہی کراچی الیکٹرک کو خریدنا چاہتا ہے، اسٹیل مل بھی انہیں فروخت کرنا کوئی دانش مندی کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ کے الیکٹرک کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھتہ دیتی ہے اور عوام کی جیبوں سے وصول کر لیتی ہے۔ اب کسی بھی ادارے کی نجکاری اس طرح نہیں ہونی چاہئے جو عوام کے وبال جان بن جائے۔ اسٹیل مل کی نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم کو غیرملکی قرضوں سے نجات کیلئے مختص کر دیا جائے اس طرح کرپشن سے بچاؤ کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے کار بنانے والی کمپنیوں کو امپورٹڈ گاڑیوں کے ساتھ مسابقت پیدا نہ ہونے کے انتظامات کئے لیکن اس کا نتیجہ آج تک صارفین بین الاقوامی گاڑیوں کی قیمتوں کے مقابلے میں زیادہ قیمت ادا کرکے بھگت رہے ہیں اور ان گاڑیوں کا معیار بھی کم ہے۔