چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) پلان فار پاکستان منصوبے کے تحت دروش میں شجر کاری مہم کا آغاز کردیا گیا۔ اس سلسلے میں شیشی پُل کے قریب دریائے چترال کے کنارے ایک تقریب بھی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دروش عبد الحق مہمان خصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر عزیز ولی نے کی۔ تقریب میں علاقے کے عمائدین، سیاسی، مذہبی رہنماء سماجی کارکنان، اساتذہ اور عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔ سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر یوسف فرہاد نے شرکاء سے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا عزم ہے کہ ملک بھر میں شجرکاری کرکے جنگلات کی کمی پر قابو پایا جائے اور ہر بشر دو شجر پالیسی کے تحت ہر آدمی دو درخت ضرور لگائے۔ انہوں نے کہا کہ برازیل اور امریکہ کے بعض ریاستوں میں جنگلات کی شرح 80 فی صد تک ہے جس کی بدولت دنیا بھر کے لوگ تازہ آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔ تقریب سے قاری جمال ناصر نے بھی اسلامی نقطہ نظر سے درخت کی اہمیت اور فوائد پر روشنی ڈالی اور اسے عین دینی اصولوں کے پاسدار قرار دیا۔ پرنسپل گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول دروش سلیم کامل نے کہا کہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر قیامت برپا ہو اور اسرافیل بانسری بجائے اس وقت بھی پودا لگانا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اسسٹنٹ کمشنر عبد الحق نے کہا کہ پودے لگانا انسانی زندگی کی بقاء کیلئے نہایت ضروری ہے اس سے دریا کے کٹاؤ میں کمی اور قدرتی آفات کی شرح میں بھی کمی آتی ہے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ان کو جو پودے مفت دئے جاتے ہیں ان کو نہ صرف لگائیں بلکہ اس کی پرورش بھی ضرور کریں تاکہ یہ پودے کامیاب ہوجائیں۔ ایس ڈی ایف او عزیز ولی نے کہا کہ اس سال ہم لوگوں کو نو لاکھ اکانوے ہزار آٹھ سو پچھتر پودے مفت دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 34000 پھل دار پودے بھی لوگوں میں تقسیم کررہے ہیں تاکہ درختوں کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دروش میں ہم نے دریا کے کنارے ریور بلٹ میں سولہ ہزار پودے لگائے ہیں جو سب کے سب کامیاب ہیں اور آج ہم بیس ہزار پودے لگارہے ہیں۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ آفیسر اعجاز احمد نے کہا کہ ہمیں بائیس لاکھ 2200000 ہدف دیا گیا ہے اس سلسلے میں ہم اسکول کے طلبا، بچوں، عوام اور عام لوگوں کے ساتھ باہمی تعاون سے یہ پودے لگارہے ہیں تاکہ اس مہم میں لوگوں کو شامل کرکے اسے کامیاب بنایا جاسکے۔ حاجی انذر گل نے کہا کہ چترال میں پہلے زمانے میں اتنا سیلاب نہیں آتا تھا اب جنگلات کی کمی کی وجہ سے یہاں بہت زیادہ سیلاب آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ دریا کے کنارے اکثر ذرعی اراضی پانی کی کٹائی کی وجہ سے دریا برد ہوکر دریا کا حصہ بنتا ہے اس کی بنیای وجہ جنگلات کی کمی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ضرور ایک، دو پودے لگائیں تاکہ جنگلات کی کمی کو پورا کیا جاسکے اور ہم قدرتی آفات میں نقصانات سے بچ سکے۔ بعد میں مہمانوں سے پودے بھی لگوائے گئے اور بیس ہزار پودے لوگو ں میں مفت تقسیم کئے گئے۔ تقریب میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔