کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و سینئر رہنماء تحریک انصاف فردوس شمیم نقوی نے موجودہ صورتحال سے متعلق کہا کہ اس وقت پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ سندھ میں 40 دن سے زیادہ لاک ڈاؤن کے بعد ہم کس جگہ کہاں کھڑے ہیں سندھ حکومت کی جانب سے آج تک شہر میں لاک ڈاؤن پر مکمل عملدرآمد نہیں کروایا جاسکا ہے، کراچی میں حکومت سندھ کے بیشتر احکامات کی خلاف ورزی کی گئی حکومت سندھ سماجی دوری یا فاصلے پر عملدرآمد نہیں کر واسکی ہم متعدد بار کہتے آئے ہیں کہ خصوصاً کراچی اور پورے ملک میں آبادیوں میں سماجی دوری نافذ کرنا ناممکن ہے کیونکہ کچی آبادیوں میں 400 مربع فٹ کے رقبے پر 10 افراد رہتے ہیں، ایسے جگہوں اور علاقوں میں نوجوان، بچے اور بوڑھوں کا گھروں تک محدود رہنا ناممکن ہے، گھروں سے باہر نکلنا انکی مجبوری ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ مساجد میں لاک ڈاؤن کا اعلان پانچ وقت کی نمازیں، نماز جمعہ اور تراویح کی نماز کے لیے کیا تھا لیکن کچھ مساجد لاک ڈاؤن پر عمل پیرا نہیں ہیں، سندھ حکومت کے احکامات صرف کاغذوں تک محدود ہے، ان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا ہے انہوں نے کہا کہ شہر میں موجود کچی آبادیوں کے مقیم بھوک و افلاس سے دوچار ہیں جس کے باعث عوام لاک ڈاؤن پر عمل پیرا نہیں ہورہے، شہر میں اگر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے سے گرفتاریوں کا عمل ہوا اور مزید تیز ہوسکتا ہے سندھ حکومت بتائے کہ وہ گرفتار لوگوں کو کہاں رکھیں گے، سندھ کی جیلیں پہلے ہی بھری ہوئی ہیں، اور خدا نہ کرے اگر کوئی کورونا سے متاثر ہوتا ہے توسندھ حکومت کیا کرے گی؟ ہمیں اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنا ہوگا جس میں ایسی تمام سرگرمیاں جن کا معاشی اثر بہت کم ہو اور جو دوبارہ شروع کی جاسکیں ہے اور انہیں تاحکم ثانی بند رکھا جاسکے، جیسے کہ ہم پرائمری اسکول، ساحل، پارکس، تفریحی مرکز وغیرہ کو بند کر سکتے ہیں، ہمیں لوگوں کو معاشی سرگرمیوں کی اجازت دینا ہوگی، اور خریداری کے لیے محدود اوقات مختص کرنے کے بجائے 24 گھنٹے اجازت دینی ہوگی تاکہ لوگوں کا رش نہ ہو اور سماجی فاصلہ بھی برقرار رہے، ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ حکومت جو صنعتوں اور کاروباری اداروں کو جو محفوظ طریقوں پر عمل پیرا ہونے کے خواہاں ہیں انہیں کاروبار شروع کرنیکی اجازت دے تاکہ معیشیت کا پہیہ چلتا رہے اور کوئی بیروزگار نہ ہوانہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ اس نے آج تک ہمیں اس عالمی وباء سے بچایا ہوا ہے، جہاں ہمارے ملک میں بیس ہزار ٹیسٹ کیے جارہے ہیں وہیں امریکہ میں روزانہ 200000 سے زیادہ ٹیسٹ ہوتے ہیں جہاں اموات کی تعداد 55000 ہے اور پاکستان میں 350 جبکہ جن ممالک میں آج بھی اموات کی تعداد یومیہ 1000 سے زیادہ ہے وہاں بھی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ معیشت کا گلا گھونٹ نہیں سکتے۔ طویل عرصے سے لاک ڈاؤن کے اثرات انسانوں پر تباہ کن انداز میں اثرانداز ہورہے ہیں، شہر میں افسردگی، مایوسی، بھوک، خودکشی کے رحجان میں بھی اضافہ ہورہا ہے، چار ہفتوں سے بھی زیادہ عرصہ سے ہم بار بارسے مطالبہ کر رہے ییں، لیکن میڈیا کی توجہ حاصل کرنے اور ترقی یافتہ ممالک کی دیکھا دیکھی وہی اقدامات اپنے ملک میں عملدرآمد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس عمل سے روز مرہ اجرت اور دیہاڑی دار طبقہ بے انتہا تکلیف میں ہے، قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ فیصلوں میں کون حق بجانب ہے اس کا اندازہ پیپلز پارٹی کی بوکھلاہٹ سے لگایا جاسکتا ہے، پیپلز پارٹی کھوکھلی ہوگئی ہے پیپلز پارٹی عوام پر جو مصیبت ڈھا رہی ہے اس کا ان پر پچھلی تین دہائیوں میں ہونے والی تمام بدعنوانیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ اثر پڑے گا، کوئی پیپلرز پارٹی سے صرف یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ ”کیا سندھ کے حکمران خصوصاً سندھ کے معاملات کو خصوصی طور پر سن رہے ہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پاس سوشل نیٹ ورک نہیں ہے۔ ہمارے پاس اتنی بڑی آبادی کو کھانا کھلانے کے وسائل نہیں ہیں۔ ہمارے پاس 40 فیصد سے زیادہ آبادی ہے جو معاشی مدد کے طلب گار ہے۔ سرکاری مشینری میں اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت۔ نجی شعبہ آنے والے ہفتوں میں خود کو ختم کر دے گا۔ لہذا، ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ ہم اپنی صورتحال کے مطابق منصوبہ بندی کریں اور یہ یقینی بنانے کے لئے پوری کوشش کریں کہ موت بمقابلہ موت کے مابین اس لڑائی میں مجموعی طور پر موت کی شرح کو ہر ممکن حد تک کم رکھا جائے، یہ بحث سیاسی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نقطہ نظر ہے جہاں وفاقی حکومت حکومت سندھ سے مختلف نظریہ رکھتی ہے واقعتا یہ ایک بدقسمتی کی صورتحال ہے جب سمجھدار لوگ سنجیدہ امور پر گفتگو کرنے بیٹھ نہیں سکتے ہیں۔ یہ صورتحال اگر بگڑتی ہے تو جمہوریت کی موت اور معیشت کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔ کسی بھی صورت میں کورونا کی وجہ سے ہونے والی اموات کو دیگر امراض میں مبتلا افراد کی اموات سے بالکل الگ الگ شمار کیا جانا چاہئے۔ سندھ کا شعبہ صحت پہلے ہے ایک ڈراؤنا خواب ہے جبکہ دوسری جانب سندھ کے حکمرانوں کے غلط فیصلے تباہی کا سبب بن سکتے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس "موت کے بمقابلہ موت کی صورتحال” کے بارے میں اپنی رائے لازمی پیش کریں۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: ٹی ایل پی کی کاوشوں سے امام مسجد سمیت 14 افراد کی رہائی، لاک ڈان کے نام پر مذہبی طبقے کو نشانہ بنانا بند کیا جائے۔ علامہ رضی حسینی نقشبندی
https://www.nopnewstv.com/tlps-efforts-to-release-14-people/