کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جوائنٹ سیکریٹری طارق چاندی والا اور بزنس فورم کے صدر وسیم الدین شیخ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت لاک ڈاؤن میں کاروبار جاری رکھنے کے حوالے سے کراچی کے تاجروں سے بھتہ طلب کرنے کی خبروں کا سنجیدگی سے نوٹس لے کیونکہ اب کراچی ایک اور نئی بھتہ خوری کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا ہے۔ کراچی اور ملک بھر کی معیشت کو بچانے کے لئے ہر نوعیت کی بھتہ خوری کو پنپنے سے روکنا ہوگا۔ کاروباری برادری کو تحفظ دیئے بغیر معیشت کیسے سنبھل سکتی ہے؟ بھتہ خوری کی اطلاعات کے پس پردہ اعلی سرکاری دفاتر اور متعدد ایسے پولیس تھانے ہیں جن کی حدود میں مارکیٹیں اور کارخانے آتے ہیں۔ کورونا لاک ڈاؤن کے حوالے سے نئی بھتہ خوی میں ملوث عناصر کی پیدا گیری کو روکا جائے اور قانون کی عملداری کے تحت عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا جائے۔ کراچی کے مسائل کا واحد حل "خود مختار چارٹرسٹی” حکومت کا قیام ہے۔ پاسبان ذمہ داران کی ہفتہ وار آن لائن میٹنگ میں کراچی کے تاجروں اور کاروباری حضرات کو لاحق مسائل اور ان کے حل کے لئے گفتگو کرتے ہوئے پاسبان کے جوائنٹ سیکریٹری طارق چاندی والا اور بزنس فورم کے صدر وسیم الدین شیخ نے کہا کہ جس طرح سندھ کے حکمرانوں کو صوبائی معاملات میں وفاق کی مداخلت برداشت نہیں ہے اسی طرح کراچی کو بھی منتخب چارٹر سٹی حکومت کے ذریعے چلانے کا حق تسلیم کیا جائے۔ کراچی کو جس بری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے بااختیار مقامی حکومت اس کی ضرورت بن گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران کراچی کی غریب عوام کے ساتھ ساتھ تاجر اور کاروباری حضرات بھی ازحد پریشان ہیں، لاک ڈاؤن کے بعد تاجر برادری کے ساتھ آئے روز بھتہ خوری اور پیدا گیری کی خبروں کی وجہ سے شہر میں خوف وہراس کی فضا طاری ہے۔ وبا کی آڑ میں مفاد حاصل کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔ اگر تاجروں اور کاروباری حضرات کو فوری تحفظ نہ دیا گیا تو کراچی میں بچا کھچا روزگار بھی ختم ہو جائے گا اور رہی سہی عوام بھی بھوکوں مرنے پر مجبور ہوگی۔ اس ساری صورتحال کی ذمہ داری صوبائی حکومت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پرعائد ہو گی۔ پاسبان رہنماؤں نے سوال کیا کہ کیا کراچی کے صنعتکار اور تاجر برادری اپنی پریشانیوں اور شکایات کے ازالے کے لئے سندھ حکومت سے مایوس ہو کر وفاقی حکومت سے امداد طلب کرے؟ اٹھارویں ترمیم سے بھرپور فائدہ اٹھانے والی سندھ کی وڈیرہ شاہی کو کراچی کے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔ وفاق اور سندھ کی کشمکش میں اہل کراچی بری طرح پس رہے ہیں۔ احساس محرومی بڑھنے سے نئے اور گمبھیر مسائل جنم لیں گے اور اس کا فائدہ براہ راست ملک دشمن عناصر اٹھائیں گے۔ طارق چاندی والا اور وسیم الدین شیخ نے کہا کہ لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کے لئے فرض شناس اہلکاروں اور اداروں کا کردار قابل تحسین ہے لیکن کچھ کرپٹ عناصر نے اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے اور لاک ڈاؤن کے دوران یہ غریب عوام اورکاروباری حضرات سے مبینہ طور پر” نذرانے” وصول کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت کراچی کے تاجروں، صنعتکاروں اور دوکانداروں سمیت شہریوں سے بھتہ کا مطالبہ کرنے والی خبروں کا نوٹس لے اور اگر واقعی سندھ حکومت، انتظامیہ یا پولیس کے کچھ کرپٹ عناصر اس بھتہ خوری میں ملوث ہیں تو انہیں گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں پیش کیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھتہ خوروں کی نشاندہی اور سرکوبی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ سندھ حکومت تاجر اور کاروباری برادری میں عدم تحفظ کا احساس ختم کرے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: گجرات میں تھانہ لاری اڈا پولیس کی کاروائی، پتنگ بازی کے سامان کی بڑی کھیپ پکڑی گئی
https://www.nopnewstv.com/lari-ada-police-…ration-in-gujrat/