کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کراچی ریجن کے صدر خرم شیر زمان کی قیادت میں تحریک انصاف کے وفد کی ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن سے ملاقات، ملاقات میں لاک ڈاﺅن کے دوران شہریوں کو درپیش مسائل اور پولیس کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر گفتگو وفد میں اراکین قومی اسمبلی آفتاب صدیقی، اسلم خان اراکین صوبائی اسمبلی راجہ اظہر، شاہنواز جدون پی ٹی آئی رہنماء عمران صدیقی، نائب معتمد اطلاعات صدام کنبھر، توقیر احمد، فراز لاکھانی اور دیگر موجود تھے ملاقات میں صدر پی ٹی آئی کراچی نے پولیس چیف سے کراچی پولیس انتظامیہ اور موجودہ صورتحال پر گفتگو کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خرم شیر زمان نے کہا کہ یہاں آنے کا مقصد کراچی کی آواز بننا تھا کراچی کی عوام کو اس وقت کئی پریشانیاں درپیش ہیں پولیس اس وقت فرنٹ لائن پر مقابلہ کررہی ہے پولیس کے کرادار کو سراہتے ہیں پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیس کی تنخواہوں میں جو 5 فیصد پیسہ جو کاٹا گیا اسے 5 فیصد بڑھا کر دیا جائے کیونکہ اس وقت پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر اپنا کردار نبھا رہے ہیں ایڈیشنل آئی جی صاحب سے مختلف امور پر بات کی گئی ہے جس میں زیر غور رہا ہے ڈبل سواری کا معاملہ، حالیہ دنوں شہر میں مختلف مقامات پر پولیس کا عوام کے ساتھ نامناسب رویہ دیکھنے میں آیا ہم نے دیکھا کہ کہیں پولیس افسران عوام کے ساتھ نامناسب الفاظ ادا کر رہے ہیں اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں ہم نے اے آئی جی صاحب سے درخواست کی ہے کہ پولیس کا یہ رویہ عوام کے ساتھ نہ رکھا جائے اس پر نوٹس لیں اس ضمن پولیس اور عوام کے درمیان ایک فاصلہ قائم ہو رہا ہے عوام کا اعتماد پولیس پر نہیں رہے گا اے جی غلام نبی میمن کے مطابق جو کراچی میں عوام کو مرغا بنانے ٹائر سے ہوا نکالنے اور بائک سے پلگ نکالنے کے واقعات انفرادی تھے، انہوں نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ کراچی کی نمائندہ جماعت ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم کراچی کے مسائل کے لیے آواز اٹھائیں اور ہر جگہ کا جائزہ لیں دوسرا مسئلہ شہر میں لگے ناکوں کا ہے جس کے باعث شہر میں ٹریفک جمع ہوتا ہے اور سوشل ڈسٹنسنگ کے قانون پر اثرانداز ہوتا ہے ناکوں کی وجہ سے ٹریفک جام ہوجاتا ہے شہر میں ناکوں سے فائدے کے بجائے نقصان ہورہا ہے شہر میں لاک ڈاؤن پر عمل دارآمد صرف میں شاہراہوں پر کیا جارہا ہے اندرون علاقے معمول کے مطابق کھلے ہیں لاک ڈاؤن آدھا تیتر آدھا بٹیر ہوگیا ہے لاک ڈاؤن ہر ایک کے لیے برابر ہونا چاہیے پاکستان تحریک انصاف ہمیثہ کراچی کے مسائل پر بات کرتی آئی ہے، تحریک انصاف کے ایم پی اے ایم این اے گراؤنڈ پر عوام کے ساتھ کام کررہے ہیں بلخصوص ایم این ایز نے ترقیاتی فنڈز کا جال شہر میں بھچانا شروع کردیا ہے انہوں نے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے کہا کہ سندھ حکومت کو بھی پنجاب حکومت کی طرح تمام شعبوں کے لیے ریلیف پیکیج کا اجراء کرنا چاہیے صحافی پولیس ڈاکٹرز اس وقت فرنٹ لائن پر موجود ہیں سندھ حکومت کو چاہیے کہ اس شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کرے، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو خواب آتے ہیں رات کو اور اگلے دن وہ نوٹیفیکیشن نکال دیتے ہیں سندھ حکومت کا روزانہ کی بنیاد پر دشمنی کا سلسلہ قبول نہیں کریں گے عوام کو ایک ماہ بیوقوف بنانے کے بعد سندھ حکومت نے ہر مسئلے کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹھرادیا ایک ماہ سے سندھ حکومت نے سندھ میں بیروزگاری بڑھائی اور عوام کو تکلیف دی اس کا حساب کون دیگا آٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے خود مختار ہیں اس کے باوجود بھی صوبے کے لیے سندھ حکومت کچھ نہیں کرسکی پیپلرز پارٹی کے وزیروں کی کارکردگی مکمل ناکام ہوگئی ہے، سندھ حکومت عوام کو ریلیف دینے اور کورونا وائرس کو شکست دینے میں ناکام ہوگئی ہے وفاقی حکومت اس وقت گراؤنڈ پر ہیں روزانہ کابینہ کی جانب سے اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں وفاقی حکومت کے اقدامات کو اس وقت عوام بھی سراہا رہے ہیں۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: کراچی سے ورغلا کر 12 سالہ بچی کو میرپورخاص لاکر فروخت کرنے والی مرکزی ملزمہ اور اسکا ساتھی عمرکوٹ سے گرفتار، محمود آباد پولیس اسٹیشن میرپورخاص میں مقدمہ درج
https://www.nopnewstv.com/arrested-the-mai…ccused-bilu-rani/