کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ملک کی قسمت بدلنے میں ناکام ہو چکی ہے اورعوام کی خوش فہمیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ مراعات یافتہ طبقہ ہمیشہ ٹیکسوں کے نیٹ ورک سے بچ نکلتا ہے اور ہر طرح کے ٹیکسوں کا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے جو پہلے ہی بھاری بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک گئے ہیں۔ ارکان اسمبلی اور مالدار اشرافیہ ریلیف کے نام پر اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں دس روپے کی دال، پندرہ روپے کی مرغی، اٹھارہ روپے کا کنہ اور دو روپے کی چپاتی سے محظوظ ہو رہے ہیں جبکہ عوام کے لئے آٹا، چینی، دالیں، گھی، دودھ اور تیل جیسی بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں۔ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے جا چکی ہے۔ حکومت کی تمام تر توجہ خسارہ کم کرنے میں ہے کیونکہ وہ آئی ایم ایف کو ناراض نہیں کرنا چاہتی خواہ اس کے لئے ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی کرنی پڑے، بجلی، پٹرولیم مصنوعات اور گیس سمیت دیگر اشیاء پر سبسیڈیز کا خاتمہ کر کے انہیں مہنگا کرنا پڑے، جس کے نتیجے میں عوام کو مرنے پر ہی کیوں نہ مجبور کر دیا جائے۔ عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے اس بار ارکان اسمبلی اور اشرافیہ کو دی جانے والی تمام مراعات اور سبسیڈیز ختم کی جائیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام ہر بار الیکشنز سے پہلے یہ امید لگاتے ہیں کہ شاید اس بار ان کی تقدیر بدل جائے مگر ہر آنے والا حکمران عوام کو مہنگائی کا تحفہ دیتا ہے۔ ریلیف دینے کا وعدہ کر کے سبسیڈیز کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اس بار بھی قیمتی ووٹوں کے ذریعے لٹیروں کو اسمبلیوں تک پہہنچانے کی سزا کے طور پر عوام کو محرومیوں کی نئی آگ میں جھونک دیا گیا ہے۔ حکومتی معاشی ماہرین عالمی بینک اور آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے چکر میں ہیں، انہیں اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ پے در پے عوام پر مہنگائی کے بم گرا رہے ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ کسی بھی ایک شے پر کیا جانے والا اضافہ یا دی گئی سبسیڈیز کو ختم کرنے سے ایک غریب آدمی پر کیا گذرے گی؟ آٹھ، دس ہزار روپے کمانے اور کرائے کے گھرمیں رہنے والا عام آدمی کس طرح اپنا گھر چلاتا ہے؟ اسے اپنے بچوں کی تعلیم، کھانے اور دوا میں سے بھی کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ ارکان اسمبلی اور اشرافیہ ایک جانب دی گئی مراعات سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو دوسری جانب سستی ترین اشیاء کے بھی حقدار ٹھہرتے ہیں۔ ملک کے وزیراعظم کا گزارہ دو لاکھ میں نہیں ہوتا تو تنخواہ بڑھا کر آٹھ لاکھ کر دی جاتی ہے اور ایک غریب نجانے کس طرح پندرہ ہزار میں اپنے پورے خاندان کی کفالت کرتا ہے یہ سوچنے کی کوئی زحمت ہی نہیں کرتا۔ الطاف شکور نے کہا کہ عام آدمی اور اشرافیہ کے لئے قانون اور انصاف ہی الگ الگ نہیں ہیں بلکہ مراعات اور ریلیف کے پیمانے بھی الگ الگ ہیں۔ ایک سابق وزیر علاج کے لئے ملک سے باہر جاتا ہے اور ایک غریب آدمی بنیادی علاج کے لئے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لٹیروں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ لاکھوں روپے تنخواہیں اور الاؤنسز لے کر بھی پارلیمنٹ کی کینٹین سے دو سو روپے میں وی آئی پی کھانا کھاتے انہیں شرم نہیں آتی؟ الطاف شکور نے کہا کہ یہ لوگ کیا جانیں کہ غریب مزدور کے لئے روٹی پندرہ روپے کر دی گئی ہے۔ قلیل دیہاڑی میں وہ خود کھانا کھائے یا اپنے بچوں کے لئے لے کر جائے؟ یہ دوغلا معیار اب بدلنا ہوگا، اگر ملک میں توازن قائم کرنا ہے، حقیقی خوشحالی لانی ہے، ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو بجائے غریب سے جینے کا حق چھیننے کے، اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات کم کی جائیں۔ اب قربانی حکمراں طبقے کو دینی ہوگی۔ ملک جن مشکلات اور مسائل میں گھر چکا ہے اس سے نکلنے کے لئے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس عوامی منشور، درست حکمت عملی اور ٹھوس لائحہ عمل موجود ہے اور عوام پاسبان کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔
![]()