کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صدر کے علاقہ میں واقع ریسٹورنٹ سے زہر خوردہ کھانہ خریدنے کے بعد پانچ بچوں کی ہلاکت اور دو خواتین کی تشویش ناک حالت کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر جاکر کوئٹہ سے آئے ہوئے مہمان خاندان کے ساتھ ملاقات کریں اور انکے بیان اور رہنمائی کی روشنی میں تحقیقات شروع کریں۔ انھوں نے سندھ فوڈ اتھارٹی کو بھی ہدایت کی کہ وہ ریسٹورنٹ سے کھانے کے نمونے جمع کریں اور انھیں لیب ٹیسٹ کے لیے بھیجیں۔ سندھ فوڈ اتھارٹی اور پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کو ابتدائی رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک خاندان کوئٹہ، بلوچستان سے گزشتہ شب تقریباً آٹھ بجے کراچی پہنچا اور اس نے وفاقی حکومت کے لاؤنچ قصر ناز میں ایک کمرے میں قیام کیا۔ کوئٹہ سے آتے ہوئے اس خاندان نے خضدار اور حب سے بھی کچھ کھانے پینے کی اشیاء لیں تھیں، جب یہ گزشتہ شب کراچی میں داخل ہوئے تو اس خاندان نے بریانی کے پارسلز لیے اور انھیں کمرے میں آکر کھایا۔ بریانی کھانے کے بعد اہلیہ نے اُلٹیاں شروع کردیں جس پر ان کے شوہر نے آغا خان اسپتال لے گئے۔ جمعہ کی صبح جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ واپس کمرے میں آیا تو اس کے پانچوں بچے اور ایک رشتے دار لڑکی تشویش ناک حالت میں پائے گئے وہ انھیں فوری طور پر اسپتال لے کر گیا لیکن تمام انتقال کرچکے تھے۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر نوبہار ریسٹورنٹ جوکہ صدر پاسپورٹ آفیس کے قریب واقع ہے کے سیمپلز لیے۔ انھوں نے قصرناز کے کمرہ جہاں پر یہ خاندان ٹھرہ ہوا تھا بچی ہوئے خوراک اور استعمال شدہ پلیٹیں جمع کیں اور انھیں ضروری کارروائی اور لیب ٹیسٹ کے لیے بھیجا۔ متعلقہ پولیس نے اپنے طریقہ کار کے مطابق کارروائی بھی کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ خاندان کی 6 ڈیڈ باڈیز کے ساتھ بلوچستان واپس بھجوانے کے حوالے سے انتظامات کریں۔
![]()