ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) پاکستان میں سائبر کرائمز میں تشویشناک حد تک اضافہ، پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی تشویشناک حد تک بڑھتے ہوئے سائبر کرائم جس میں خواتین کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنا، آن لائن فراڈ، جعلی آئی ڈیز کی تشکیل، قابل اعتراض تقاریر اور تصاویر کو اپ لوڈ کرنا، چائلڈ پورنو گرافی ویڈیو اپ لوڈ کرنا اور ہیکنگ شامل ہیں کے حوالے سے صرف گزشتہ برس ملک بھر میں ایف آئی اے کے پندرہ سائبر کرائم سرکلز نے اپنی رپورٹ تیار کی ہے۔ 2019 میں 27214 درخواستیں تصدیقی عمل سے گزر رہی ہیں جبکہ 6762 انکوائریاں جاری ہیں اور اس عرصہ میں 575 مقدمات درج ہوئے مگر صرف 43 مقدمات میں سزائیں ہوئیں، ان حیرت انگیز اعداد و شمار کے باوجود ایف آئی اے سائبر کرائم بے انتہائی مشکلات کا شکار ہے، علاوہ ازیں دو برس میں ستر ہزار کے قریب سائبر کرائم کے حوالے سے درخواستیں موصول ہوئیں۔ اتنے اہم محکمے میں سہولتوں کا فقدان اور بہت سے مسائل کا سامنا ہے جس میں سب سے اہم 2018 کا سائبر کرائم لاء کا پوری طرح نفاذ ہونا ہے۔ گزشتہ دو برس سے مذکورہ قانون پر پوری طرح اس کی اصل روح کے مطابق نفاذ میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر عمل درآمد نہیں ہوپا رہا۔ موصولہ دستاویزات کے مطابق ادارے کا 2018 میں ملک بھر میں مستقل سٹاف 114 تھا جبکہ کنٹریکٹ اسٹاف کی تعداد 407 مگر پوری طرح ٹرینڈ تفتیشی افسران کی تعداد صرف پندرہ ہے۔
![]()