سانگھڑ، (رپورٹ، رضوان غوری) پانچ سالہ معصوم دعا انصاری کے مبینہ قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ ٹنڈوآدم سٹی پولیس نے مقدمے میں گرفتار محمد قاسم ولد عبیداللہ کندھانی کو معزز عدالت میں پیش کردیا، جہاں عدالت نے پولیس کی استدعا پر ملزم کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سے واقعے کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفتیش کی جائے گی اور تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مقدمے کو آگے بڑھایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مقدمہ کرائم نمبر 301/026 کے تحت تھانہ ٹنڈوآدم سٹی میں دفعہ 375-A اور 302 تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج ہے پولیس کے مطابق SSP سانگھڑ اور SDPO ٹنڈوآدم کی ہدایات پر SHO ٹنڈوآدم سٹی انسپکٹر عمران اختر چانڈیو اور انسپکٹر ہادی بخش شاہ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں مطلوب ملزم کو گرفتار کیا۔
دعا انصاری کیس کا پس منظر یاد رہے کہ تقریباً 15 روز قبل پانچ سالہ دعا انصاری اپنے والد کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا کرنے مسجد گئی تھی، جہاں سے وہ لاپتہ ہوگئی تھی۔ اہلِ خانہ کی جانب سے تلاش کے بعد اسی روز مغرب کے وقت دعا کی لاش پرانے تبلیغی مرکز کے مدرسے کے قریب سے برآمد ہوئی تھی۔
واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی، جبکہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی تھی۔ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے بعد اب اسے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے عدالتی ریمانڈ کے دوران پولیس ملزم سے تفتیش کرے گی جبکہ مقدمے کے شواہد، واقعے کے محرکات اور دیگر قانونی پہلوؤں کی مزید چھان بین جاری رہے گی دعا انصاری کے اہلِ خانہ اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تفتیش کرکے حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر ملزم پر جرم ثابت ہوتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔