چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) جنت نظیر وادی کیلاش سے تعلق رکھنے والی لڑکی نیوز کاسٹر بننے کی خواہش مند ہے۔ اپنی مخصوص ثقافت، رنگین اور جازب نظر لباس، اپنے دود دستور کیلئے ویسے بھی کیلاش لوگ دنیا بھر میں مشہور ہیں مگر اب کیلاش سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کی خواہش ہے کہ وہ ٹیلیویژن اینکر بنے۔ ریشماں کا تعلق وادی کیلاش کے انیش گاؤں سے ہے اس نے اپنے علاقے میں کوئی زنانہ اسکول اور کالج نہ ہونے کے باوجود بھی چترال جاکر گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں داخلہ لیا اور ہاسٹل میں رہائش اختیار کرتے ہوۓ بی ایس سی تک تعلیم حاصل کی۔ ریشماں کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ ٹیلیویژن میں کسی خاتون کو خبریں پڑھتی ہوئی دیکھتی ہے تو اس کی دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی ان کی طرح ٹی وی میں آکر خبریں پڑھے۔ ریشماں نے مزید بتایا کہ کیلاش قبیلے کے لوگ اپنی ثقافتی رقص، گیت اور نرالے دستور اور رسم و رواج کی بدولت تو دنیا بھر میں مشہور ہیں مگر آج تک کسی ٹی وی چینل میں کیلاش لڑکی کو بطور اینکر نہیں لیا گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ میں چاہتی ہوں کی ٹی وی کی سکرین پر اپنے مخصوص لباس میں آکر نیوز کاسٹر بنوں اور پہلی کیلاش خاتون اینکر کا اعزاز حاصل کروں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریشماں کو اینکر بنانے میں کونسا ٹیلیویژن سبقت حاصل کرتا ہے اور وہ کونسا خوش قسمت چینل ہوگا جس پر ریشماں اپنے مخصوص کیلاش لباس میں آکر خبریں پڑھے اور یوں وہ کیلاش کمیونٹی کی نمائندگی بھی کرسکے۔
![]()