مانسہرہ (رپورٹ: عتیق سلیمانی) مانسہرہ تھانہ پھلڑہ کی حدود میں مدرسہ تعلیم القرآن ٹھاکر میرا پڑھنہ میں 10 سالہ بچے کےساتھ جنسی زیادتی کرنے پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج۔ دیگر معاونین کو گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لئے سپیشل ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ تفصیلات کےمطابق علی گوہر نے رپورٹ کرائی کہ اس نے اپنے بھتیجے کو 2/3 ماہ قبل مدرسہ تعلیم القرآن ٹھاکر میرا پڑھنہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخل کرایا تھا۔ اور مورخہ 23 دسمبر 2019 کو اسی مدرسہ کے قاری نے بذریعہ فون اسے بھتیجے کی مضروبیت کی اطلاع دی۔ تو میں نے قاری صاحب کو کہا کہ اسکو ہسپتال لے کر آجائیں۔ بھتیجے کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ بے ہوش تھا۔ ہوش آنے پر اس نے بتایا کہ مورخہ 23 دسمبر 2019 کو مدرسہ کے ایک قاری شمس الدین نے اسے مدرسے سے دور لے جاکر میری ساتھ نا صرف زبردستی بدفعلی کی۔ بلکہ جسمانی تشدد بھی کیا۔ شور شرابہ پر 2/3 اشخاص موقعہ پر آگئے اور وہ بھی مجھ پر تشدد کرنے لگے۔ مدعی کی رپورٹ پر تھانہ پھلڑہ نے مقدمہ علت 254 زیر دفعہ 377 پی پی سی کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ ڈی پی او مانسہرہ صادق بلوچ اور ایس پی انوسٹی گیشن مانسہرہ محمد عارف جاوید نے فوری ایکشن لیتے ہوۓ فی الفور مدرسہ کو سیل کرادیا۔ معاملہ کی ابتدائی انکوائری کرنے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے بچے کے ساتھ نہ صرف جنسی زیادتی کی ہے بلکہ اس پر جسمانی تشدد بھی کیا اور جان سے مارنے کی کوشش بھی کی ہے۔ جس پر ایف آئی آر میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔ مدرسہ سیل کرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لئے سپیشل ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔ جبکہ جرم میں شریک دیگر معاونین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
![]()