سیالکوٹ (رپورٹ: سیدہ نزہت شہناز) جشن عید میلاد النبیؐ کے موقع پر بھوپالوالہ میں جلوس نکالے گئے اور محافل کا بھی انعقاد کیا گیا، عاشقان رسولؐ نے نبی کریمؐ کی یوم ولادت کی آمد پر گلیوں اور بازاروں کو قمقموں، جھنڈوں اور رنگین لائٹوں سے سجایا، جلوس کے شرکاء پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے ان کا استقبال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جشن عید میلاد النبیؐ کے موقع پر بھوپالوالہ میں جامع مسجد فردوس سے جلوس نکالا گیا۔ جلوس میں بھوپالوالہ کی مذہبی، سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی بھرپور شرکت کی۔ جشن عید میلاد النبیؐ کے جلوس کی قیادت الحاج پروفیسر حافظ محمد صابر علی صابر کے صاحبزادے محمد اعظم صابر نے کی۔ جلوس میں اللہ اکبر اور یارسولؐ کے نعروں کی صدائیں بلند کی گئیں اور عاشقان رسولؐ درود پاکؐ کا ورد بھی کرتے رہے۔ جلوس بھوپالوالہ کی گلیوں سے ہوتا ہوا جب محلہ چاو والا پہنچا تو وہاں کے علاقہ مکینوں محمد نواز وڑائچ، اقبال وڑائچ، امین بٹ، شہباز المعروف شیری وڑائچ، شانی بٹ، احتشام وڑائچ، عثمان وڑائچ و دیگر نے جلوس کا استقبال والہانہ انداز میں کیا اور جلوس کے شرکاء پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کیں۔ محلہ چاو والا سے جلوس محلہ گڑھی پہنچا تو وہاں پر موجود حاجی خوشی محمد مغل، افتخار احمد چیمہ، رمضان مغل، شیخ عدنان محمود، رانا طیب علی،عمر طاہر چوہدری، ڈاکٹر رانا رضوان، طاہر مغل، عدنان بٹ و دیگر نے محمد اعظم صابر اور جلوس میں شریک دیگر شرکاء کا استقبال کیا اور ان کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ محلہ گڑھی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ اعظم صابر نے کہا کہ حضور اکرمؐ کی ولادت کے بعد جاہلیت کے دور کا خاتمہ ہوا۔ اللہ پاک نے محمد مصطفیٰؐ کو دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا بھیجا۔ نبی کریمؐ نے ہمیشہ اسلام کی تعیلمات پر عمل کرنے کا حکم دیا اور سب سے زیادہ اس بات پر زور دیا کہ ہر انسان کے ساتھ اخلاق کیساتھ پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکار دو عالمؐ کی سنت پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم اپنی آخرت کو سنوار سکتے ہیں لیکن اس وقت ہم مال و دولت اکٹھا کرنے کے چکر میں سب کچھ بھول چکے ہیں لیکن آخرت اپنے اعمال سے ہی ٹھیک ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مسلمانوں پر آج جو سختیاں ہیں وہ صرف اور صرف دین سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ خطاب کے آخر میں پاکستان کی سالمیت اور بقاء کے لیے خصوصی دعائیں کی گئی۔ جلوس بھوپالوالہ کی گلیوں اور بازاروں سے ہوتا ہوا جامع مسجد فردوس میں جا کر اہتمام پذیر ہوا۔
![]()