کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) بھارتی جیل میں ہندو انتہا پسند قیدیوں کے تشدد سے ہلاک پاکستانی ماہی گیر نور الامین کی میت کو کل نماز جمعہ کے بعد نماز جنازہ ادا کر کے ابراہیم حیدری گوٹھ کے قریب علی اکبر شاہ قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ اس موقع پرنماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کے علاوہ پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ، انصار برنی، ڈی ایس پی کورنگی فتح محمد شیخ، ابراہیم حیدری کی سیاسی شخصیت سہیل جاموٹ و دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ فوتی ماہی گیر نور الامین کے نماز جنازہ سے قبل ان کی بیوی، بیٹیوں اور بیٹوں کو غشی کے دورے پڑتے رہے۔ فوتی ماہی گیر کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جیل میں اس وقت 150 سے زائد پاکستانی ماہی گیر قید ہیں، جن پر بھارتی اہلکاروں و ہندو انتہا پسند قیدیوں کی طرف سے تشدد کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور یہ تشدد کا سلسلہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے وقفہ وقفہ سے بڑی تعداد میں بھارتی ماہی گیروں کو رہا کیا جاتا ہے، لیکن بھارتی حکومت پاکستانی ماہی گیروں کو رہا کرنے کی بجائے ان کے تشد شدہ لاش فراہم کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ 10 اپریل کو کراچی پریس کلب کے سامنے بھارت میں قید پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا جائیگا، جس میں قیدی ماہی گیروں کے ورثا کے علاوہ بڑی تعداد میں ماہی گیر شرکت کریں گے۔ اس موقع پر انصار بِرنی، سہیل جاموٹ و دیگر نے خطاب کیا۔
![]()