کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر دوسال پہلے ہونے والے افسوس ناک بم دھماکے کی یاد منانے اور سماج میں بین العقائد ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تحریک نسواں 17 فروری کو لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر لنگر کا اہتمام کرے گی، اس موقع پر کھلی کچہری ہوگی اور دھمال ڈالاجائے گا۔ تقریب کا مقصد سندھ کی روایتی ثقافت کے تحفظ کی ضرورت کا احساس دلانا اور یہاں رہنے والوں کے درمیان امن، احترام اور بین العقائد ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ سیہون روانگی سے پہلے تحریک نسواں کی جانب سے جمعہ کے روز کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیما کرمانی اور دیگر مقررین نے 2017ء میں قلندر کی درگاہ پر بم دھماکے کے فوراً بعد اور گزشتہ سال اس سانحے کی پہلی برسی کے موقع پر اپنے دوروں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تیسرے دورے کا مقصد انسان دوستی کی تحریک کو مزید مستحکم کرنا، بین العقائد ہم آہنگی کو فروغ دینا اور تحریک کا دائرہ سندھ کے دیگر علاقوں تک پھیلانا ہے، جن میں سادھو بیلا مندر، بھگت کنور رام کا آشرم، بڈھل فقیر کی درگاہ، سچل سرمست کا مزار اور دیگر مقامات شامل ہیں۔ تحریک نسواں کا پیغام امن، محبت، انسان دوستی اور انسانوں کی ترقی کا پیغام ہے۔ قلندر کی درگاہ جیسے مقدس مقامات ہمیشہ سے ہر عقیدے کے عقیدت مندوں کے لیے سکون کی جگہ ہوتے ہیں جہاں وہ روحانی تسکین، امن، آزادی اور سماجی ہم آہنگی کے جذبے اور مقصد سے آتے ہیں۔ شیما کرمانی نے کہا کہ ” ہمیں اپنے روایتی آرٹ، کلچر، لوک داستانوں، رواج، رقص اور موسیقی کو اپنانے، ان کی قدر کرنے، انہیں محفوظ کرنے کی اور سب سے بڑھ کر انسان دوست فکر اور طرزِ زندگی سے اپنا تعلق جوڑنے کی شدید ضرورت ہے۔ اقلیتی ثقافتوں کا حق، سب کی شمولیت، امن اور رواداری سندھ سماج کی نمایاں خصوصایات ہیں۔ اس درگاہ پر آنے والوں کا تعلق کسی ایک مذہب یا عقیدے سے نہیں ہے، وہ سب عقیدوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ موسیقی اور دھمال کرنے والوں کی گھنٹیوں کی گونج ہمیشہ سے انسان دوستی، بین العقائد ہم آہنگی، امن اور رواداری اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے والی سندھ کی صوفی بھگت روایت کا حصہ رہی ہیں۔ 2017 میں اس فلسفے کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تھا اور اب ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اس فلسفے کو دوبارہ اجاگر کریں، اس کا تحفظ کریں اور اسے فروغ دیں۔” انہوں نے کہا کہ دھمال پاکستان کے عقیدت مندوں کا رقص ہے، عقیدت مند عورتیں اور مرد دونوں سندھ کے صوفی بزرگوں اور شاعروں کے مزارات اور درگاہوں پر دھمال کرتے ہیں۔ سابق صدر جنرل ضیاالحق کی طرف سے پابندی عائد کیے جانے کے باوجود یہ رسم اب بھی جاری ہے۔ جبکہ دھماکے کے دوسرے ہی دن دھمال جاری رہی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جنوبی ایشیا کے صوفی بزرگ اور شاعر خود بھی رقص کرتے تھے جن میں امیر خسرو نمایاں ہیں، جنہوں نے موسیقی کی ایک بے مثال صنف قوالی تخلیق کی اور اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیا کے سامنے گایا اور رقص کیا۔ مشہور سندھی صوفی، شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، بھگت کنور رام اور بڈھل فقیر جیسے صوفی بزرگوں نے خود بھی رقص کیا اور گایا، ان کے عقیدت مند آج تک ان کی ان روایات پر عمل کرتے ہیں، اس لیے ہم بھی گاتے ہیں اور رقص کرتے ہیں۔ شیما کرمانی نے کہا "سندھ دنیا کی سب سے قدیم تہذیب کا گہوارہ ہے ۔ ہماری پر زور اپیل ہے کہ ہر طرح کے تعصب، شدت پسندی اور کسی کے بھی خلاف نفرت کے اظہار کی مذمت کرتے ہوئے سندھ کے خوبصورت آرٹ اور کلچر اور اس کے سب کو ساتھ لے کر چلنے کے کردارکے تحفظ اور اس کے فروغ میں ہمارا ساتھ دیں۔ مختلف عقیدوں کے حامل پاکستانیوں کے ساتھ مل کر ہم سندھ کی بڑی درگاہوں، مندروں اور آشرم میں جائیں گے اور وہاں دھمال اور کھلی کچہریاں منعقد کریں گے تاکہ امن، محبت، باہمی احترام اور ہم آہنگی کا پیغام سب کو پھر سے یاد دلایا جائے۔ ہم اپنی روایتی فکر، عقائد اور ثقافت میں شاعری، آرٹ، موسیقی اور رقص کی اہمیت کو اجاگر کریں گے۔”
![]()