Home / آرٹیکل / صحافیوں کی آواز سنو۔۔! تحریر: عمران چودھری

صحافیوں کی آواز سنو۔۔! تحریر: عمران چودھری

!صحافیوں کی آواز سنو۔۔

تحریر: عمران چودھری

مختلف میڈیا ہاﺅسز میں صحافیوں کو دھڑا دھڑ فارغ کیا جا رہا ہے، کئی عرصہ سے بے روزگاری، مشکلات و مصائب بھگت رہے ہیں، جینوئین صحافیوں کی مشکلات میں بے حد اضافہ ہوا ہے، وزارت اطلاعات و نشریات ہنگامی بنیادوں پر ایک جینوئین صحافیوں کی فہرست تیار کرے جو فیڈرل کیپیٹل اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومت کے اسٹیشنز پر کام کرنے والے ورکنگ جرنلسٹس پر مشتمل ہو اس کی تیاری میں کسی صحافتی تنظیم کا کوئی نام نہاد لیڈر شامل نہ ہو تمام متنازعہ اور خود ساختہ، سیاسی گماشتے ہیں، صحافی لیڈرز نہیں نہ ہی صحافتی کمیونٹی ان کو اپنا لیڈر تسلیم کرتی ہے، انہی کی وجہ سے میڈیا ورکرز بحرانوں کی زد میں ہیں، غیر متنازعہ غیر تنظیمی اور جینوئین ورکنگ جرنلسٹس کی مدد سے ورکنگ جرنلسٹس کی فہرست تیار کرکے فی الفور انہیں ہنگامی بنیادوں پر قومی خزانہ سے مناسب ماہانہ گزارا الاﺅنس دینے کا اقدام اٹھایا جائے، یہ جینوئین صحافیوں کی تعداد چند سو بنتی ہے جبکہ سرکاری خزانہ سے وزارت اطلاعات کی طرف سے ماضی میں سیکرٹ فنڈ اور اشتہارات کی مد میں نواز شریف جیسے کرپٹ حکمران اربوں روپے میڈیا مالکان کو بانٹتے رہے ہیں جو موجودہ حکومت نے یہ سلسلہ بند کر کے احسن اقدام کیا ہے اب صحافیوں کی مشکلات، پریشانیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ اقدام فوری کرے، کہیں دیر نہ ہو جائے، صحافی معاشرے کے کان اور آنکھیں ہیں، ہر ظلم و استحصال کے خلاف، اور جمہوری و شہری آزادیوں، عدلیہ و قانون کی برتری کے لیے۔ اداروں کی اصلاح احوال کے لیے صحافیوں کا کردار لازوال اور تاریخی ہے

پاکستان جیسے ممالک میں واحد مانیٹرنگ سسٹم، چیک اینڈ بیلنس کا کام کرنے والے، خطرات سے کھیلنے اور اپنی زندگیوں کو جان جوکھوں میں ڈال کر بے خوف نڈر ہو کر ملک و قوم کی خد مت کے لیے دن رات کوشاں یہی ورکنگ جرنلسٹس ہوتے ہیں، ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیئے اور مشکلات کی گھڑی میں حکومت کو صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے، سب سے زیادہ ڈیوٹی کرنے والے سب کی خبر دینے والے اپنی خبر نہیں رکھتے، مصائب الام کی چکی میں مسلسل پسنے والے ورکنگ جرنلسٹس اور چند ٹی وی اینکرز جو لاکھوں روپے وصول کر کے سکرین پر تماشا لگانے اور رپورٹرز، نیوز روم میں کام کرنے والے صحافیوں کے کام کی بنیاد پر الٹا ان کا استحصال کرنے میں میڈیا مالکان کے ساتھ مصروف ہیں، موجودہ حکمرانوں کو شدید بحرانی صورتحال میں حکومتی سطح پر بے روزگار صحافیوں کو ریلیف پہنچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، وزیر اطلاعات ، فواد چوہدری اور جناب وزیر اعظم عمران خان اس تجویز کی طرف خصوصی توجہ دیں اور ہنگامی بنیادوں پر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، پاکستان کے قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے اشتہارات کی مد میں لوٹنے والے اور نواز شریف کے ہر ناجائز کام کو کرپشن کو سپورٹ کرنے والے ن لیگ کے میڈیا سیل جیو ٹی وی جیسے مضبوط میڈیا ہاﺅسز بھی صحافیوں کو تنخواہیں ادا نہ کرنے اور ان کی جبری برطرفیوں میں سب سے آگے ہے، ماضی میں چند صحافی نمائندوں کو اپنے حق میں مہم کا ٹارگٹ دے کر نوازنے اور نوکری دینے والے جیو ٹی وی کے مالک شکیل الرحمن نے سپریم کورٹ کے سامنے صحافیوں کے سامنے واشگاف الفاظ میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ” ہم صحافت نہیں بزنس کرتے ہیں

، ماضی میں یہ چینل انٹرنیشنل سطح پر سی آئی اے کی آئی ایس آئی کے خلاف مہم پر اور مختلف مواقع پر ملک مخالف مہم چلانے اور باہر کے سیاسی مہروں، نواز شریفوں جیسے افراد کو پانامہ میں سپورٹ کرنے سے لے کر، ممبئی حملوں کا پاکستان سے تعلق جوڑنے اور 2013 کے الیکشن میں دھاندلی پلان کا حصہ بننے تک ہر مرحلے میں بھاری رقوم، نواز شریف سے سب سے زیاد ہ ریکارڈ اربوں روپے کے اشتہارات اور رشوت لے کر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے پر پیش پیش رہا، عوامی حلقوں میں اس جیسے ٹیکس چور، صحافتی ضابطہ اخلاق کے حوالہ سے مجرمانہ غفلت پر اور مسلسل جھوٹ چلانے اور ملکی سلامتی امور کے خلاف کھل کر کام کرنے کی وجہ سے سخت متنفر ہیں اسے دیکھنا پسند نہیں کرتے، اس چینل کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، جیو ٹی وی 25 ارب روپے پیمرا کا نادہندہ ہے ایف بی آر میں ٹیکس چوری کا ریکارڈ سپریم کورٹ کیس میں اوپن ہے جسکی سماعت آجکل چل رہی ہے، ملک کی سیاست، مذہب، تہذیب و تمدن، معاشرت، دفاع اور صحافت سے کھلواڑ کرنے والے اس مجرم ٹی وی چینل ” جیو” سے مکمل ٹیکس وغیرہ کی وصولیوں کو یقینی بنایا جائے اور فی الفور مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ پاکستان کو ایسی غلیظ صحافت کی قطعآ ضرورت نہیں۔ جو ہمارے کاروباری اداروں سرکاری اداروں سے پیسہ لے کر ہمارے ملک اور قوم کے خلاف چل رہا ہو۔

وزرات اطلاعات ملک بھر میں لاکھوں جعلی ڈمی اخبارات کے ڈیکلریشن فوری کینسل کرے، جو اخبار جینوئین صحافی نہیں چلا رہا یا طے شدہ قواعد وضوابط کے تحت مارکیٹ میں موجود نہیں یا ہفتہ میں چند روز شائع کرکے ناجائز اشتہارات وصولی اور ذاتی دھندوں کو غیر قانونی دھونس جماکر دفاع کرنے اور ورکرز کا استحصال کر رہا ہے ایسے ہر ڈمی اخبار کا ڈیکلریشن اور ٹی وی چینل کا لائیسنس فوری کینسل کر دیا جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے احترام، جدوجہد اور حقوق کی یاد تازہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے