Home / Home / یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے احترام، جدوجہد اور حقوق کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشروں کی ترقی اور معیشت کی مضبوطی کا دارومدار مزدور طبقے کی محنت پر ہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں آج بھی مزدور وہ بنیادی حقوق حاصل نہیں کر سکے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق مزدور کو 40 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ نہیں مل رہی۔ 18 سال سے کم عمر بچےّ مزدوری کر رہے ہیں۔ مزدورں کے بنیادی حقوق حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر میں تحریکیں چلیں اور قربانیاں دی گئیں۔

پاکستان میں مزدوروں کے مسائل نہ صرف پرانے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ مزید پیچیدہ بھی ہو چکے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ کم اجرت اور بروقت ادائیگی نہ ہونا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت مقرر کی جاتی ہے، لیکن عملی طور پر اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ لاکھوں مزدور ایسے ہیں جو طے شدہ اجرت سے بھی کم پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ غیر محفوظ کام کے حالات، سوشل سکیورٹی اور ہیلتھ انشورنس کی عدم دستیابی بھی سنگین مسائل میں شامل ہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ کنٹریکٹ سسٹم ہے، جس نے مزدوروں کو مستقل ملازمت کے تحفظ سے محروم کر دیا ہے۔ کنٹریکٹ ملازمین کو نہ تو ملازمت کا تحفظ حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں جو مستقل ملازمین کو دی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبر قوانین پر عملدرآمد کی کمزوری اور بدعنوانی نے بھی مزدوروں کی حالت زار کو مزید خراب کیا ہے۔

اگر ہم عالمی سطح پر نظر ڈالیں تو International Labour Organization (آئی ایل او) نے مزدوروں کے حقوق کے لیے واضح اصول وضع کیے ہیں، جن میں مناسب اجرت، محفوظ کام کے حالات، اور تنظیم سازی کا حق شامل ہے۔ پاکستان ان اصولوں کا دستخط کنندہ ہونے کے باوجود ان پر مکمل عملدرآمد میں ناکام نظر آتا ہے۔

مزدوروں کی بہتری کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ حکومت لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔ کم از کم اجرت کی پابندی، اوور ٹائم کی ادائیگی، اور کام کے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل سکیورٹی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ مزدور بیماری، حادثات اور بڑھاپے میں سہارا پا سکیں۔

تعلیم اور فنی تربیت بھی مزدوروں کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ہنر مند مزدور نہ صرف بہتر اجرت حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے لیے حکومت کو ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کے اداروں کو فروغ دینا ہوگا۔

مزدوروں کو خود بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ یونین سازی اور اجتماعی جدوجہد ہی وہ راستہ ہے جس سے وہ اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔ یکم مئی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ حقوق مانگنے سے نہیں، بلکہ جدوجہد سے حاصل ہوتے ہیں۔

یہ دن صرف ایک تعطیل نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم اپنے محنت کشوں کو وہ مقام دیں گے جس کے وہ حقیقی معنوں میں حقدار ہیں۔

مزدوروں کے مسائل محض بیانات سے حل نہیں ہوتے اس کے لیے سنجیدہ پالیسی، مضبوط عملدرآمد اور مزدور کی اپنی آواز تینوں کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔ اگر ان میں سے ایک بھی کمزور ہو تو بہتری ادھوری رہتی ہے۔

حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟

سب سے پہلے حکومت کو لیبر قوانین پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ پاکستان میں قوانین موجود ہیں، مگر مسئلہ ان پر عمل نہ ہونے کا ہے۔ کم از کم اجرت (Minimum Wage) کا باقاعدہ نفاذ کیا جائے اور ہر ادارے کو اس کا پابند بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبر انسپیکشن سسٹم کو شفاف اور فعال بنایا جائے تاکہ فیکٹریوں اور اداروں میں مزدوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو روکا جا سکے۔

حکومت کو چاہیے کہ سوشل سکیورٹی اور ہیلتھ انشورنس جیسے نظام کو مضبوط کرے۔ Employees Old-Age Benefits Institution (EOBI) اور سوشل سکیورٹی اداروں کو فعال بنا کر مزدوروں کو پنشن، علاج اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔ کنٹریکٹ سسٹم کو ریگولیٹ کیا جائے تاکہ مزدور استحصال کا شکار نہ ہوں اور انہیں ملازمت کا تحفظ حاصل ہو۔

مزید یہ کہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز کو فروغ دیا جائے تاکہ مزدور ہنر مند بن سکیں۔ ہنر مند مزدور نہ صرف بہتر آمدن حاصل کرتے ہیں بلکہ ملک کی معیشت میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

مزدور کو اپنے حقوق کیسے مل سکتے ہیں؟

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حقوق صرف دیئے نہیں جاتے، حاصل بھی کیے جاتے ہیں۔ مزدوروں کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل کریں اور اجتماعی سطح پر آواز بلند کریں۔ یونین سازی ایک مؤثر ذریعہ ہے، جس کے ذریعے مزدور اپنے مطالبات منظم انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر International Labour Organization (ILO) نے مزدوروں کے لیے تنظیم سازی کو بنیادی حق قرار دیا ہے۔ اگر مزدور متحد ہوں تو وہ اجرت، کام کے اوقات اور دیگر سہولیات کے لیے بہتر مذاکرات کر سکتے ہیں۔

مزدوروں کے حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں؟

مزدوروں کی حالت بہتر کرنے کے لیے تین بنیادی ستون ضروری ہیں: حکومت، آجر (employer) اور خود مزدور۔

حکومت قانون بنائے اور اس پر عمل کروائے، آجر مزدور کو انسان سمجھ کر اس کے حقوق ادا کرے، جبکہ مزدور خود تعلیم، ہنر اور شعور حاصل کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں مزدور کو حقیر نہیں بلکہ قابلِ احترام سمجھنا ہوگا۔

اگر ان تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا مزدور بھی باعزت زندگی گزار سکے گا۔ ورنہ صرف ہر سال یکم مئی منانا ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا، جس سے مزدور کی زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

سیرتِ نبویؐ انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، موجودہ دور میں پیروی کی اشد ضرورت ہے۔

    درود پاک کونسل کی افتتاحی تقریب، نبی کریمؐ کی تعلیمات پر عمل ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے