Home/اہم خبریں/سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس میں نیزہ بازی کے مقابلوں شاندار کارکردگی دکھانے پر زبردست خراجِ تحسین
سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس میں نیزہ بازی کے مقابلوں شاندار کارکردگی دکھانے پر زبردست خراجِ تحسین
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ اسپورٹس کی جانب سے ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس میں نیزہ بازی کے فائنل مقابلوں تک پہنچنے اور شاندار کارکردگی دکھانے پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ عمدہ پرفارمنس کے اعتراف میں سرسید کی انتظامیہ کی طرف سے انھیں طلائی تمغہ اور دو لاکھ روپے نقد انعام پیش کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ جدید دور کے مطابق ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے کھیلوں کا معیار بہت نیچے چلا گیا۔ کھیلوں کے میدان ختم ہوتے جارہے ہیں۔ تربیتی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے بھی کھیلوں کے معیار پر فرق پڑا ہے۔ تاہم ایک مضافاتی علاقے سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم نے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ممتاز مقام حاصل کیا۔
سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے کہا کہ کسٹم، ریلوے، بنک اور مخیر حضرات نے کھیلوں کی سرپرستی ختم کر دی جس سے کھیلوں کے معیار پر اثر پڑا۔ کھیلوں کے معیار میں تنزلی کی ایک وجہ کھیل کے میدانوں کا فقدان بھی ہے۔ کھیل کے میدان تجارتی مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ نامساعد حالات کے باوجود ارشد ندیم نے ٹوکیواولمپکس میں شاندار کارکردگی کا مظاہر کیا اور فائنل تک پہنچے جس کے لیے وہ تعریف کے بجاطور پر مستحق ہیں۔
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ اسپورٹس کی جانب سے ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس میں نیزہ بازی کے فائنل مقابلوں تک پہنچنے اور شاندار کارکردگی دکھانے پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ عمدہ پرفارمنس کے اعتراف میں سرسید کی انتظام
یہ کی طرف سے انھیں طلائی تمغہ اور دو لاکھ روپے نقد انعام پیش کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ جدید دور کے مطابق ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے کھیلوں کا معیار بہت نیچے چلا گیا۔ کھیلوں کے میدان ختم ہوتے جارہے ہیں۔ تربیتی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے بھی کھیلوں کے معیار پر فرق پڑا ہے۔ تاہم ایک مضافاتی علاقے سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم نے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ممتاز مقام حاصل کیا۔ سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے کہا کہ کسٹم، ریلوے، بنک اور مخیر حضرات نے کھیلوں کی سرپرستی ختم کر دی جس سے کھیلوں کے معیار پر اثر پڑا۔ کھیلوں کے معیار میں تنزلی کی ایک وجہ کھیل کے میدانوں کا فقدان بھی ہے۔ کھیل کے میدان تجارتی مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ نامساعد حالات کے باوجود ارشد ندیم نے ٹوکیواولمپکس میں شاندار کارکردگی کا مظاہر کیا اور فائنل تک پہنچے جس کے لیے وہ تعریف کے بجاطور پر مستحق ہیں۔
اس موقع پر کے ایچ اے کے چیئرمین گلفراز احمد خان نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے شرکاء میں سرسید یونیورسٹی کے ڈین حضرات، شعبہ جات کے سربراہان، سندھ ایکتھلیٹکس ایسوسی ایشن کی صدر حمیرا، محمد طالب، اولمپین سمیر حسین، ہاکی کے بین الاقوامی کھلاڑی محمد علی خان، خالد رحمانی، عبدالباسط، اولمپینز و دیگر شامل تھے۔ میزبانی کے فرائض اسپورٹس کے معروف اینکر نسیم راجپوت نے انجام دیے۔