کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آزاد جموں کشمیر کی معروف لوگ گلوکارہ بانو رحمت نے کہا کہ ملک بھر میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی واحد ادارہ ہے جو حقیقی معنوں میں فن کی ترویج و ترقی اور صدر احمد شاہ فن کاروں کی سرپرستی و خدمت کر رہا ہے۔ میں کراچی کے اور خاص طور پر آرٹس کونسل کراچی میں فن کی ترقی اور فن کاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ہونے والا کام دیکھ کر بہت متاثر ہوئی ہوں۔ ہر صوبے اور آزاد کشمیر میں اسی طرح کام ہونے لگے تو نہ صرف ہماری ثقافت بہت جلد ترقی کرے بلکہ فن کاروں کے مسائل بھی باقی نہ رہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی آرٹس کونسل میں 6 ستمبر کے حوالے سے منعقد پروگرام میں پرفارم کے بعد آرٹس کونسل اسٹوڈیو میں کشمیر کی زبانوں، کشمیری، گوجری اور پہاڑی میں گیت ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
بانو رحمت جموں و کشمیر کی معروف لوگ گلوکارہ ہیں جو 6 ستمبر کے حوالے سے متعدد پروگرام میں پرفارم کرنے حکومت سندھ کلچہر ڈیپارٹمنٹ کی دعوت پر مظفر آباد سے کراچی آئیں۔ انہوں نے ہر پروگرام کا آغاز کشمیر کا مقبول نغمہ میرے” وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن” گا کر کیا۔ انہوں نے اس دورے کے دوران آرٹس کونسل کے اسٹوڈیو میں کشمیری زبانوں کے لوگ گیت بھی ریکارڈ کرائے۔ بانو رحمت نے کہا کہ کراچی کے لوگ پورے ملک میں منفرد ہیں۔ یہاں جو محبت اور پیار ملا وہ ہمیں مظفر آباد میں بھی محسوس نہیں ہوتا۔ کراچی ایسا نہیں جو ماضی میں اس کے بارے میں سنا تھا کراچی کے لوگ بہت محبت والے ہیں مجھے آرٹس کونسل کراچی کے لوگ اپنے خاندان کی طرح لگے۔ احمد شاہ جیسا مخلص اور آرٹسٹوں سے محبت کرنے والا شخص میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا۔
بانو رحمت نے کہا کراچی آرٹس کونسل کی شاندار ترقی کا راز احمد شاہ سے مل کر سمجھ آیا۔ کراچی کے فن کار خوش قسمت ہیں کہ ان کو احمد شاہ جیسے شخص کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنے فن کے ذریعہ کشمیر کی ثقافت کو روشناس کراوں اسی لئے میں کشمیر کی ہر زبان اور بولی میں نغمے گاتی ہوں۔ میں نغموں کے ذریعے دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم سے روشناس کرانے کی کوشش کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں فنکاروں کو پروموٹ کرنے کا رجحان نہیں ہے، حالاں کہ اس فن کو مجاہدین کا حوصلہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ جیسا کہ ہمارے فن کاروں نے 1965 میں نغموں اور ترانوں کے ذریعے اپنی فورسز کے حوصلہ بلند کئے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنے فن کے زریعہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم سے روشناس کراسکوں، لیکن بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ 14 اگست، 6 ستمبر اور5 فروری سمیت کسی بھی قومی دن کے موقع پر ہماری خدمات سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔
میں پی ٹی آئی کی نئی حکومت سے امید کرتی ہوں کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کو آگے بڑھانے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی اور ان فنکاروں کی حوصلہ افزائی کریں گے جو اپنے فن کے ذریعہ اس تحریک کا حصہ ہیں، انہوں نے کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا کہ فنکار کی آمدنی کا کوئی زریعہ نہیں ہوتا لہذا حکومت کو چاہئے کہ وہ کراچی آرٹس کونسل اور حکومت سندھ کی طرح فنکاروں کو وظیفہ دے۔