اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے دکاندار سے پکی رسید وصول کرنے والے صارفین کیلئے انعامی سکیم لانے کا اعلان کردیا جس کے تحت ہر ماہ 25 کروڑ کے انعامات صارفین کو دیئے جائیں گے۔ اس لئے صارفین دکاندار سے پکی رسید ضرور طلب کریں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا ہے کہ صارف کچھ بھی خریدیں پکی پرچی ٖضرور لیں، گاہک دکاندار سے پکی رسید وصول کرے، پکی رسید وصول کرنے والے صارفین کیلئے انعامی سکیم لائیں گے۔ انعامی سکیم کی مالیت ایک ارب روپے تک لے کرجائیں گے۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ٹیکس دینے والوں کو مزید سہولتیں دیںگے، سبسڈی کا زیادہ استعمال توانائی کے شعبےمیں ہوتا ہے، آئی ایم ایف سے ہم نکلے نہیں ان سے بات چیت جاری ہے، ریکوری زیادہ کریں گے اور لائن لاسز کم کرینگے، جس کیلئے وقت لگے گا۔ ایف بی آر کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ آپ کو یہ نہیں پتہ کہ ایف بی آر میں ٹیکنالوجی ریفارمز کتنی آئی ہیں تو افسوس کی بات ہے۔ ایف بی آر میں بہت سی ریفارمز ہوچکی ہیں ، 4 سے 5 لوگ اکٹھے ہو کر ایف بی آر کا دورہ کریں، حکومت نے ایف بی آر میں خصوصی سیل بنایا ہے، ایف بی آر کا خصوصی سیل تاجروں کے مسائل حل کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو ایڈوانس کر دیا ہے، کمپلائنس ڈیش بورڈ بنا دیئے ہیں جس کیلئے زیادہ ورک فورس کی ضرورت نہیں، ڈنڈے سے کام چلانا بہت دیکھا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا، مارشل لا میں بھی ڈنڈے سے کام چلانے کی کوشش کی گئی۔ شوکت ترین نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ سرکاری ملازمین کا حق ہے، ہم منی بجٹ نہیں لائیں گے، مہنگائی کے مقابلےمیں تنخواہوں میں زیادہ اضافہ ہونا چاہیے۔ حبیب بینک میں کروڑ پتی اسکیم لایا تھا، ہرماہ ایک کروڑ دیتا تھا، اس وقت تین ماہ میں چالیس ارب کے ڈیپازٹ بڑھ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے معاہدوں کے باعث آئل کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوںگی، سگریٹ انڈسٹری پر ٹیکس بڑھانے پڑے تو بڑھائیں گے، سعودی عرب سے ادھار تیل میں رعایت لیں گے۔