Home/اہم خبریں/سندھ میں 37 ہزار نئے اساتذہ بھرتی ہوں گے ٹیچر ٹریننگ کے تحت آئندہ 3 سے 5 سال میں جو میرٹ پر اساتذہ بھرتی ہوں گے۔ صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی
سندھ میں 37 ہزار نئے اساتذہ بھرتی ہوں گے ٹیچر ٹریننگ کے تحت آئندہ 3 سے 5 سال میں جو میرٹ پر اساتذہ بھرتی ہوں گے۔ صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں محکمہ تعلیم میں بجٹ اضافہ کرکے بجٹ 262.8 ارب روپے کیا گیا ہے جبکہ اساتذہ کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ اور ان کی بھرتیوں کے حوالے سے سندھ کابینہ کی منظوری سے پالیسی مرتب کی گئی ہے، جس کے بعد اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری اور اساتذہ کا معیار بہتر ہوگا۔ اسکولوں میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جس کا ذمہ دار متعلقہ اسکول کا ہیڈ ماسٹر ہوگا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نئے اسکولوں کی نسبت پرانے اسکولوں کی مرمت اور ان کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جائے گی اور مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں 117 نئی اسکیموں کے ساتھ ساتھ 186 جاری اسکیموں کو مکمل کیا جائے گا۔ مالی سال 2020-21 میں محکمہ تعلیم نے 181 اسکیمیں مکمل کیں اور بجٹ کا 80 فیصد حصہ اس کے لئے ریلیز کیا گیا۔ اب تک کم و بیش 10 ہزار سے زائد مزدوروں کو بینظیر مزدور کارڈ کا اجراء کیا جاچکا ہے اور اس کی رفتار کو بڑھانے کے لئے مزید سینٹرز کھولیں جارہے ہیں۔ مزدوروں کی کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے کی گئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب، کے پی کے، بلوچستان اور وفاق بھی حالیہ مہنگائی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مزدوروں کی اجرت میں اضافہ کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو، سیکرٹری کالجز سید خالد حیدر شاہ اور دیگر بھی موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس سال تمام تدریسی عملہ اپنے منتقلی کے لئے صرف ای پورٹل / ویب پورٹل کے ذریعہ درخواست دے سکتا ہے۔اس کے لئے اساتذہ سال میں ایک بار درخواست دے سکتے ہیں اور تعلیمی سال کے اختتام کے بعد ان کی منتقلی کو مطلع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ویب پورٹل پر لنک یکم جولائی 2021 ء سے کھل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ویب پورٹل صرف گرین زون میں اسکول دکھائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ کابینہ نے تقرری کی پالیسی 2021 کو منظوری دے دی ہے اور اس پالیسی کے تحت مختلف تقرری کے قواعد میں ترمیم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر آئی بی اے کے ذریعہ 37 ہزار سے زائد اسکول اساتذہ کی تقرری کی جائے گی اور اس کے لئے 4 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کے لئے سکھر آئی بی اے سے کہا گیا ہے کہ وہ ضلع کے مطابق ٹیسٹ کروائیں اور اسی ضلع کے امیدواروں کے نتائج اپ لوڈ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب تعلقہ ایجوکیشن آفیسرز کو سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت مسابقتی امتحان کے ذریعے بھرتی کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ٹیچرز ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (ٹی ٹی آئی) حسین آباد جیسے ماڈل پر عوامی نجی شراکت کے طرز پر لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور درسانو چنو کے ٹیچرز ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (ٹی ٹی آئی) چلانے کے لئے آر ایف پیز شائع کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ مالی سال کے دوران 30,000 سے زیادہ اساتذہ کو لائف سکیل پر مبنی تعلیم کی تربیت دی جا چکی ہے جبکہ 1700 ای سی ای اساتذہ اور 6000 جے ای ایس ٹی کی تربیت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شراکت داروں کے ساتھ مل کر تقریباً ساڑھے تین لاکھ طالب علموں کو نوعمری کی صحت، غذا، بچوں کے تحفظ، شہریت وغیرہ کی تربیت دی گئی ہے۔ مائیکرو سافٹ کے ساتھ، اب تک30,787 سیکنڈری اسکول اساتذہ کو تربیت دی جا چکی ہے، اور لگ بھگ 2 لاکھ 57 ہزار طلباء رجسٹرڈ کئے گئے ہیں۔ 2 لاکھ 52 ہزار پرائمری طلباء اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹرسی ڈپارٹمنٹ کی موبائل اپلیکیشن میوز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، یوٹیوب چینل سندھ کالج لیکچرز کے 20 ہزار صارفین ہیں اور اس کے 1800 ویڈیو لیکچرز ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اگلے تعلیمی سیشن میں 57 کالجوں میں ڈیجیٹل لائبریریوں کے لئے 135 ملین ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف وجوہات کی بنیاد پر بند اسکولوں کو کھولا گیا ہے اور اب تک 2057 ایسے اسکولز جو کسی وجہ سے بند تھے ان اسکولوں کو کھولا گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سال 2021-22 کے بجٹ میں اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹرسی ڈپارٹمنٹ میں ترقیاتی بجٹ 14 ارب روپے، جاری اسکیموں اور غیر ترقیاتی کاموں پر 222 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو 236 ارب روپے بنتی ہیں، کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ترقیاتی کاموں پر 4 ارب روپے، جاری اسکیموں اور غیر ترقیاتی کاموں پر 22.8 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو 26.8 ارب روپے بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال (مالی سال 2021-22) کے لئے، اسکول اینڈ کالج ایجوکیشن کے بجٹ کو 244.5 ارب روپے سے بڑھا کر 2،262.8 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ اس میں رواں مالی سال کے مختص کے مقابلے میں 13.5 فیصد کا اضافہ دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2020-21 میں اسکولوں اور کالج ایجوکیشن سیکٹر کے لئے اے ڈی پی کی رقم 16.8 بلین روپے تھی لیکن اگلے مالی سال 2021-22 میں اسے بڑھا کر 18 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ مالی سال 2021-22 میں، محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی نے 117 جاری اسکیموں اور 186 نئی سکیموں کے لئے 14 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ مالی سال 2020-21 کے لئے 13.15 بلین روپے رکھے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر اسکیمیں موجودہ سرکاری اسکولوں کو پرائمری سے لیکر سیکنڈری سطح تک اپ گریڈ کرنے، اسکولوں کی بحالی اور بہتری، فرنیچر، بنیادی سہولیات کی فراہمی، موجودہ خطرناک اسکول عمارتوں کی تعمیر اور دوبارہ تعمیر کے لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 2021-22 میں اسکول کی عمارتوں کی بحالی اور مرمت (ایم اینڈ آر) کے لئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسکول انتظامیہ کمیٹیوں کو اسکولوں کی روزانہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 1 ارب 2 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں مانیٹرنگ کمیونٹی کی شمولیت لازمی ہے کیونکہ کمیونٹی کے لوگ ہی مسائل کی نشاندہی اور اس کے حل میں کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال حکومت سندھ نے فرنیچر اور سامان کی خریداری کے لئے 7.8 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن تعلیم کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لئے حکومت سندھ کا ایک بڑا دستہ ہے۔ اس وقت اس صوبے کے 1800 اسکولوں اور مراکز میں تقریباً 4 لاکھ 75 ہزار طلباء کو تعلیم کی سہولیات فراہم کررہا ہے۔ فاؤنڈیشن تقریبا 2 ہزار 5 سو ہونہار طلبہ کی معاونت کررہی ہے جس میں 2021 میں 400 سے زائد نئے اسکالرشپ مہارت حاصل کرنے والے طلباء کو دیئے گئے ہیں۔ مالی سال 2021-22 میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لئے 10.75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں (موجودہ مالی سال کے مختص کردہ رقم سے 13 فیصد زائد ہے)۔ 15 انگلش میڈیم اسکولز اور‘14’ کمپری ہینسیو اسکول اگلے تعلیمی سال سے ای ایم اوز کی مدد سے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے کام کریں گے۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت پبلک و پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت 500-800 قابل عمل سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو فعال بنائے گی جو ناقص حالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایلیمنٹری/ سیکنڈری اسکول صرف 4000 ذیلی کلسٹروں میں موجود ہے۔ باقی 2000 ذیلی کلسٹروں میں، ہم نے سینٹرل پرائمری اسکول کو ایلیمینٹری یا سیکنڈری میں درجہ بندی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ پوسٹ پرائمری تعلیم (ابتدائی اور ثانوی) فراہم کرنے کے لئے اس سال 100 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اسسٹیڈ اسکولوں کے تحت اس سال 1000 ایملیمنٹری یا سیکنڈری اسکولز کا اضافہ کرے گا۔ جبکہ بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں کی مدد سے نئے منصوبوں/ سرگرمیوں کے لئے مالی سال 2021-22 میں 6.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈ پیمائش کے مطابق، سندھ میں 6.4 ملین طلباء اسکول سے باہر ہیں، جبکہ پاکستان میں 22.8 ملین بچے او او ایس سی ہیں۔یونیسف، (جے آئی سی اے) اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے، ایکسلریٹیڈ لرننگ پروگرام کے ذریعے 2.5 سال میں بنیادی سطح کا نصاب متعارف کرایا جائے گا۔ اسکول سے باہر 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد اسکولوں سے باہر بچے یا اسکول چھوڑ جانے والے بچوں کو 6 ہزار 351 غیر رسمی تعلیم مراکز میں داخل کیا گیا ہے۔ مالی سال 2021-22 میں 600 ملین روپے سندھ کے اضلاع جن میں کشمور، جیکب آباد، میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر میں 3000 غیر رسمی تعلیمی مراکز کے افتتاحی اور عملی عمل کے لئے رکھے گئے ہیں تاکہ اسکولوں میں سے 90 ہزار بچوں کو تعلیمی موقع فراہم کیا جاسکے۔ نئے مالی سال میں نجی اسکولوں اور مدارس کی مردم شماری مکمل کی جائے گی، جس سے اسکول سے باہر کے بچوں کی حتمی تعداد کا علم ہوسکے گا۔ اگلے مالی سال 2021-22 کے لئے، کالج ایجوکیشن کے بجٹ میں 11.8 فیصد اضافے سے 26.8 بلین روپے کردیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2020-21 کے لئے 20.446 بلین روپے رکھے گئے تھے۔ کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لئے 4 ارب روپے کی رقم اے ڈی پی 2021-22 میں 43 جاری اور 64 نئی اسکیموں کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ کل اے ڈی پی 4 ارب روپے میں 39 جاری منصوبے اور 30 نئی اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ حیدرآباد، جامشورو، سکھر، شکار پور، جیکب آباد، سانگھڑ، عمرکوٹ، کورنگی، ملیر اور ڈسٹرکٹ ویسٹ کے اضلاع میں مالی سال 2021-22 میں 5 نئے اور 14 ان کالجز کو مکمل کیا جائے گا، جس پر کام جاری ہے اس طرح سال کے دوران صوبے میں 19 نئے ڈگرے کالج قائم کیے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ ماضی میں جو اساتذہ اور اسکولز بنائے گئے تھے وہ پیپلز پارٹی کی حکومت سے قبل بنائے گئے تھے اور جو میڈیا پر یا اپوزیشن ان اسکولوں میں جانوروں کو باندھنے کا ڈھونڈورہ پیٹ رہی ہے یہ وہی اسکولز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہزاروں کی تعداد میں ایسے اساتذہ جو بغیر کسی میرٹ کے بھرتی ہوئے ہیں ان کو ایک ساتھ نہیں نکال سکتے البتہ اب جو 37 ہزار نئے اساتذہ بھرتی ہوں گے اور ٹیچر ٹریننگ کے تحت آئندہ 3 سے 5 سال میں جو میرٹ پر اساتذہ بھرتی ہوں گے اس کے بعد صورتحال میں بہتری آئے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیسی کے تحت 10 ہزار سے زائد ملازمین کو بینظیر مزدور کارڈز جا اجراء کردیا گیا ہے اور اس کام کو مزید تیز کرنے کے لئے آئندہ ایک ماہ کے دوران مزید سینٹرز اور نادرہ کے سینٹرز پر بھی کاؤنٹرز قائم کئے جائیں گے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر معزز عدلیہ کو بھی زمینی صورتحال کے تحت فیصلے صادر فرمائے تو بہتر ہوگا کیونکہ اداروں کو بند کر دینا زیادتی ہے۔