![]()
سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے دو اہم تہوار ہوتے ہیں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ عید قرباں جسے قربانی کی عید بھی کہا جاتا ہے جس میں ہر صاحب نصاب اپنی استطاعت کے مطابق جانوروں کی قربانی کرتا ہے لیکن اب یہ بچوں کے لیئے جانور کو سجا سنوار کے گلی محلے کے لوگو دکھانا ،سب کو بتانا کہ ہم نے کتنا مہنگا جانور لیا ہے دکھاوا اور شوبازی ان دنوں عروج پر ہوتی ہے اور بڑوں کےلیے بس ایک رسم بن گئی ہے ۔آنے والی نسلوں کو تو شائد اس کا پس منظر بھی نہیں پتہ مقصد کیا سمجھیں گے۔
دور جدید میں سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجیز نے اتنا مصروف کردیا ہے کہ اپنے مذہب سے دور ہو گئے ہیں ۔
انبیاء کرام نے کیا کیا قربانیاں دیں اور ان قربانیوں کا کیا مقصد تھا اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ۔
عید قرباں کا پس منظر دیکھیں تو حضرت ابراھیم علیہ السلام،حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہ اسلام نے کیا بلند مرتبہ پایا ہے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جنھوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی دیواریں اونچی کیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ہی ایڑیاں رگڑنے سے آب زم زم کا چشمہ جاری ہوا تھا جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا آپ کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہ اسلام نے پانی کی تلاش میں صفا ومروہ کے چکر کاٹے تو اللہ تعالی نے اس کو شامل دین کردیا اس سعی کے بنا حج و عمرہ مکمل ہی نہیں ہوتا۔کیا فضیلت و مرتبہ پایا دونوں نے اپنی قربانیوں اور نیک اعمال کی وجہ سے
سبحان اللہ ۔
اللہ تعالیٰ نے جب امتحان عشق کی بابت پوچھا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی امیدوار تھے۔مال کا امتحان لیا تو کامیاب ٹھہرے ۔بیوی بچہ تنہا چھوڑنا پڑا تو اللہ کے لئے بے آب وگیاہ پہاڑوں کے درمیان چھوڑ دیا اس میں بھی کامیاب ٹھہرے ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آخری امتحان لینا شروع کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب آیا کہ اپنی عزیز ترین چیز کو قربان کریں تین راتیں یہ خواب آتا رہا آپ کو سب سے عزیز حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے آپ نے ان ہی کو قربان کرنے کا سوچا کیا کہنے عشق خداوندی اور اطاعت کے اپنے بیٹے کو بھی قربانی کے لئے پیش کردیا شیطان نے ہر طرح سے آپ کو،حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہ اسلام کو ورغلایا لیکن کوئی بھی شیطان کے بہکاوے میں نہیں آیا اور بیٹے کو لے کر چل دئے ۔ایک پہاڑ پہ جاکر رکے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا اور اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ لی تاکہ ذبح ہوتا ہوا بیٹا نہ دیکھ سکیں بس یہاں آ کر امتحان عشق میں ناکام ہوئے ۔اللہ تعالی نے کہا کہ آنکھوں پہ پٹی کیوں باندھی؟؟؟کہا اے خدا اپنے بیٹے کو ذبح ہوتے کیسے دیکھ پاتا۔اللہ تعالیٰ کی محبت پہ بیٹے کی محبت غالب آگئی اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلیل اللہ کے لقب سے نوازا۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ ذبح ہوا۔ جس کی یاد میں یہ قربانی فرض قرار پائی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح اللہ کے لقب سے نوازا۔ یہ قربانی جس کی ابتداء حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہوئی اس کی انتہا پھر جاکر کربلا میں ہوئی۔علامہ اقبال نے بہت خوبصورت لفظوں میں کہا۔
غریب سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین علیہ السلام، ابتدا ہیں اسماعیل علیہ السلام
وہ امتحان عشق جو ادھورا رہ گیا تھا اسے امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں پورا کیا۔ ایک دن میں اپنے سامنے کھلی آنکھوں سے بیٹے کو کیا بھائی، بھتیجے، بھانجے، دوست احباب، پورا قافلہ جو71 لوگوں پر مشتمل تھا سب کو ذبح ہوتے دیکھا اور پھر اپنی لاڈلی بیٹی، لاڈلی ہمشیر اور تمام اہل قافلہ کی خواتین کو حضرت ذین العابدین کے سپرد کر کے اپنی جان بھی راہ حق میں لٹا دی۔ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے لبوں پہ شکوہ تک نہ لائے۔جبکہ جانتے تھے کہ پیچھے رہ جانے والوں پہ کتنا ظلم ہوگا۔
کربلا والوں کے حوصلے بھی تھے دید کے قابل
جہاں پہ صبر مشکل تھا وہاں پہ شکر کرتے تھے
اس قربانی کے حوالے سے دیکھا جائے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری بھی دید کے قابل ہےباپ نے خواب سنایا اور آپ کو قربان کرنا چاہا تو بلا حیل و حجت تیار ہو گئے۔رب کی رضا کے ساتھ باپ کی خواہش کا بھی احترام کیا ۔اطاعت گذاری اور فرمانبرداری کی اعلیٰ مثال قائم کی لیکن ان کی قربانی کو سمجھیں تو تب پتہ چلے ناں ہم تو احکام الہیٰ کو بھلا چکے ہیں انبیاء کرام کی قربانیوں کو کیا سمجھیں گے۔
معاشرے میں انتشار کا سبب یہی لاعلمی تو ہے ماں اور باپ کا مرتبہ سمجھ ہی نہیں سکے تو عزت و احترام کہاں سے لائیں۔ نصاب تعلیم میں یہ سب کچھ شامل نہیں تو والدین بھی بتانے کی زحمت نہیں کرتے۔ قرآن مجید میں تمام قصےّ تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ قصے اس لئے نہیں لکھے کہ قرآن کریم کی ضخامت میں اضافہ ہو بلکہ اس لئیے لکھے کہ پڑھنے والے، سمجھنے والے سمجھ سکیں کہ بتانے کا مقصد کیا ہے.تبھی تو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں مگر قرآن مجید پڑھے کون؟ اور سمجھے کون؟ ضروری کب رہ گیا ہے علم دین۔
قربانی کا مقصد صرف یہ بھی نہیں کہ جانور ذبح کردیں تو ثواب ہی ثواب ہے ساتھ اپنی انا، تکبر، نفرت، رقابت، منافقت، رنجش ،حسد اور کینہ کو بھی ذبح کریں ۔ یہ قربانی ہمیں ہر قربانی کا درس دیتی ہے پھر اپنے وطن کے لئے ہو،کسی رشتے کو سنبھالنے کےلیے یا کسی کو اپنا بنانے کے لیے قربانی دینی پڑے تو گریز نہ کریں درگزر کرنا سیکھیں۔ انا کا پرچم بلند مت رکھیں ۔ بانٹنے کی عادت ڈالیں ۔وہ محبتیں ہوں یاخوشیاں دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں وہ لوگ جو کبھی گوشت نہیں لے سکتے، نئے کپڑے نہیں بنواسکتے ان کو اپنے ساتھ شامل کریں خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ دور مت جائیں آپ کے آس پاس بہت سے حقدار لوگ ہوں گے جن کے لیئے چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی بہت معنی رکھتی ہیں مگر
افسوس صد افسوس کہ ہم اپنا علم اپنی اقدار و روایات کو بھول کر دوسروں کے راستے پر چل پڑے ہیں اور ہمارا حال اس جیسا ہوگیا ہے
”کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا “
ہمیشہ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔
اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔