کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ نادراکا ادارہ کراچی کے لوگوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک کرنا بند کرے۔ سخت گرمی میں لوگوں کو گھنٹوں باہر کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ شیڈ اور پانی تک کا انتظام نہیں ہے۔ مغرور سرکاری ملازمین یہ نہ بھولیں کہ ان کہ تنخواہ کراچی کے لوگوں کے ٹیکس سے ادا ہوتی ہے۔ نادرا مراکز میں سب سے بڑا مسئلہ ملازمین کا شہریوں کو مس گائیڈ کرنا ہے جس کے باعث شہریوں کو کسی ایک معمولی سے کام کے لئے کئی بار نادرا مراکز کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ نادرا دفاتر پر تعینات گارڈز لوگوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں، کوئی ناخوشگوار سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔ اس کمپنی سے نادرا اپنا معاہدہ فی الفور ختم کرے۔ خود سر سرکاری ملازمین اس وقت سے ڈریں جب عوام ان کا گریبان پکڑ کر احتساب کرے گی۔ نادرا مطلق العنانیت کے ساتھ کسٹمر سروس دینا بند کرے۔
شناختی کارڈ بنانے کا سسٹم مکمل محفوظ بناتے ہوئے آن لائن کیا جائے۔ عوام سے تضحیک آمیز رویہ ختم کیا جائے۔ ہر سینٹرمیں بیٹھنے کی سہولت اور سائے کا انتظام کیا جائے۔ سرکاری اداروں میں ہتک آمیز سلوک بند نہ ہوا تو پاسبان احتجاجی تحریک چلائے گی۔ پاسبان ہیلپ لائن پر شہریوں کی جانب سے نادرا مراکز کے عملے کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ حکومت نے ملک میں کورونا سے بچاؤ کے لئے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے احکامات جاری کئے جبکہ نادرا سینٹرز پر چوبیس گھنٹے ہی عوام کا بے پناہ رش ہوتا ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے ایس او پیز کے نام پر کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں ہوتے۔ نہ ہی نادرا مراکز میں عوام کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جارہا ہے، نہ ہی سینیٹائزر ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرے حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔
اس حوالے سے سینٹرز پر آنے والے لوگوں میں بھی شدید خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تو مجبور ہیں اپنے کاموں کے لئے آنا ہی پڑتا ہے، ہماری حفاظت کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ جبکہ انتظامیہ کا رویہ انتہائی توہین آمیز ہوتا ہے۔ ٹوکن لیکر گھنٹوں لائن میں بیٹھے شہریوں کو کوئی نہ کوئی عذر بتا کر واپس کر دیا جاتا ہے۔ نادرا نے شہر میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کہنے کو تو کہتے ہیں کہ میگا سینٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں لیکن حقیقت میں یہ عوام کو کوئی سہولت نہیں دے رہے۔ لوگوں سے غیر ضروری دستاویزات طلب کرتے ہیں اور بلا جواز طور پر انکوائری میں ڈال دیتے ہیں۔ نادرا اہلکار ایجنٹوں کے ذریعے رشوت مانگتے ہیں اور ہزاروں روپے لے کر یہ مسئلہ حل کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی مطلوبہ رقم نہ دے سکے تو وہ بس نادرا کے دفاتر کے چکر لگاتا رہتا ہے۔ عوام نادرا سے تنگ ہیں اور نادرا کی نا اہلی اور ناقص کارکردگی نے شہریوں کو مشکلات اور پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے۔
قومی شناختی کارڈز کی ضرورت عوام کی بنیادی ضرورت ہے اور تعلیم اور روزگار سمیت بہت سے معاملوں میں اس کی ضرورت پڑتی ہے اور نادرا عوام کو ان کے حق سے محروم کر رہا ہے۔ پاسبان کا مطالبہ ہے کہ شناختی کارڈز کے حصول کے لیے عوام کو سہولتیں فراہم کی جائیں۔ شہرمیں مزیدمیگا سینٹر ز قائم کیے جائیں۔ میگا سینٹرز کے تمام کاؤئنٹرز پر عملہ بڑھایا جائے۔ بند کیے جانے والے چھوٹے نادرا دفاتر دوبارہ کھولے جائیں۔ دفتری اوقات میں آنے والے تمام شہریوں کو ٹوکن فراہم کیے جائیں۔ نادرا کے ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا جائے۔ غیر ضروری کاغذات کے نام پر رشوت اور کرپشن کا دھندا بند کیا جائے۔