کراچی (نوپ نیوز) اسلامی جمہوری اتحاد پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر علامہ عبدالخالق فریدی، صوبائی صدر علامہ امیر عبداللہ فاروقی، جنرل سیکریٹری شکیل احمد قریشی، کراچی ڈویژن کے صدر علامہ مرتضیٰ خان رحمانی نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں اور مشرف دور میں بلدیاتی نمائندوں کو دیئے گئے تمام اختیارات بحال کئے جائیں محکمہ تعلیم ہیلتھ اور کمیونٹی پولیس کو بلدیاتی نمائندوں کے زیر انتظام دیا جائے۔ انہوں نے سندھ اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ممبران کے مابین ہونے والی تو تکار اور ایک دوسرے پر سنگین الزامات کو انسانی، اخلاقی، آئینی اقدار کے منافی قرار دیا اور مختلف جماعتوں کی کراچی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں ہونے والی تقاریر کو محض مقابلہ بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام جن مشکلات اور مسائل سے گزر رہے ہیں اور جس طرح جرائم و کرائم کی وارداتوں کا تناسب بڑھ رہا ہے مہنگائی اور بیروزگاری کا جن بے قابو ہوچکا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوامی کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں کو عوامی مسائل کی بجائے ذاتی و گروہی مفادات کی فکر ہے جو کہ مستقبل میں زبردست قومی تنزلی و ابتری کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے شہری اور دیہی عوام کو لڑانے کی سازش کرنے کی بجائے ان کو درپیش مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ شہری اور دیہی عوام ایک جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ سندھ حکومت اپنے زیر اثر محکموں میں بدعنوانی، رشوت خوری کے خاتمے کیلئے اقدامات کرے۔ مہنگائی کو کم سے کم کرنے کیلئے قیمتوں کا واضح تعین کرے اور تمام دکانداروں کو نمایاں مقامات پر پرائس لسٹیں آویزاں کرنے کے احکامات جاری کرے۔ انہوں نے سانحہ سیالکوٹ کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے دل دوز سانحات کو روکنے کیلئے موثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ اقدامات بھی کئے جائیں۔