سانحہ کمالیہ 19جون 2012 کے تناظر میں عوام اور تاجر رہنماؤں کے نام اہم پیغام
تحریر: سردار عبدالرحمٰن ڈوگر ایڈووکیٹ
سال 2012 میں ملک بھر میں انرجی کرائسس عروج پر تھا، روزانہ 18 سے 20 گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کو ذہنی مریض بنا رکھا تھا، اس سلسلہ میں ملک بھر میں احتجاج جاری تھا۔ مگر ایسی صورت حال میں کمالیہ میں حسب روایت ایک خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ عوام اور تاجر برادری میں حد درجے کا اضطراب موجود تھا مگر مرکزی انجمن تاجران کمالیہ سمیت تاجر تنظیمں اور کوئی بھی سیاسی وسماجی جماعت عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کیلئے انکی قیادت کرنے اور ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھی شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ملک بھر میں احتجاج ہونے کے باوجود انرجی کرائسس میں کمی ہونے کی امیدیں ختم ہو گئی تھیں اور ملک کو ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ تنگ آکر عوام بسر اقتدار نمائندوں کے گھروں تک جا پہنچے تھے۔
کمالیہ کی تاجر، سیاسی، سماجی اور اپوزیشن عوامی سیاسی رہنماؤں کی بے حسی کی وجہ سے عوام خود احتجاج کیلئے تیار ہو گئی اسی صورت حال میں 17 جون 2012 کی شام 4 بجے کے قریب ہماری گلی کے درزی/ ٹیلرنگ برادری نے جن کے کاروبار کا مکمل انحصار بجلی پر تھا۔ وہ سپاہ مصطفیٰ کمالیہ کے ایک نوجوان رہنما کو ساتھ لےکر میرے پاس آگئے۔ اور مجھ سے کہنے لگے کہ ہم نے اپنے تاجر رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے مگر وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ہمارے قیادت کرنے سے نہ جانے کیوں کتراتی ہے آپ ہماری قیادت کریں ہم نے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ وہ میرے پاس شاید اس لئیے آئے تھے کیونکہ میری رہائش ان کے قریب صدر بازار گھنٹہ گھر کے نزدیک تھی اور میں وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بھی بھر پور حصہ لیتا تھا۔ ابھی ہم احتجاج کے حوالہ سے گفتگو کر ہی رہے تھے کہ اس دوران بجلی آگئی ان میں سے بہت سارے بات ادھوری چھوڑ کر ہمیں وہی چھوڑتے ہوئے اپنی دوکانوں پر چلے گئےمیں نے طنزاً کہا ہے کہ یہ ہماری قوم کا حال ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جگہ پر احتجاج بھی کوئی اور کرے اسی وجہ سے تمھاری تاجر قیادت کو تم پر اور تمھیں ان پر اعتماد نہیں ہے۔ اس کیلئے وقت جان اور مال کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ ابھی ہم یہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ 3، 4 منٹ میں بجلی پھر چلی گئی وہ لوگ دوبارہ ہمارے پاس آگئے ہم نے اسی وقت احتجاج کا پروگرام بنایا دوکانیں بند کئیں اور ڈوگر چوک، فاروقیہ مسجد اور تانگیاں والا چوک سے ہوتے ہوئے جب نذر چوک صدر بازار پہنچے تو ہماری پیچھے عوام کا ایک جم غفیر تھا اگر میں یہ کہوں کہ وہ ہزراوں نہیں تو سینکڑوں لوگ ضرور تھے۔ کسی کے ہاتھوں میں ڈنڈا تھا تو کسی کے ہاتھ میں سوٹا، ان لوگوں نے ہمارے روکنے کے باوجود زبردستی دوکانیں بند کرانا شروع کردیں اور عمران بیکری کے قریب جا کر انجمن تاجران کمالیہ کے اس وقت کے جنرل سیکرٹری کلیم اللہ طور صاحب کو جلوس کی قیادت کرنے کیلئے کہنے لگے انہوں نے دیگر تاجر رہنماؤں کے ساتھ مشورہ کر کے بعد میں احتجاج کا پروگرام مرتب کرنے کا بہانہ بنا کر ساتھ جانے سے انکار کردیا جس پر جلوس کے کچھ شرکاء بدتمیزی پر بھی اتر آئے اور انجمن تاجران اور ان کے خلاف نعرے لگانا بھی شروع کر دیئے، صورت حال خراب ہوتے ہوئے دیکھ کر ہم نے گھنٹہ گھر پہنچ کر تقرریں کئیں اور یہ بہانہ بنا کر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا کہ ہم تاجر اور دیگر عوامی تنظیموں کے ساتھ ملکر آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کریں گے مگر جلوس کے شرکاء تھانہ موڑ تک جانا چاہتے تھے، کچھ تو ہمارے روکنے کے باوجود چل بھی پڑے۔ اسں دوران خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ بجلی آگئی اور لوگ واپس آ گئے۔ درزی برادری کے جو لوگ میرے ساتھ آئے تھے میں نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ حالات بہت خراب ہیں اگر ہم نے کل ہڑتال کی کال دی تو صورتحال کنٹرول سے باہر ہو جائے گی اور اگر خدانخواستہ کوئی سانحہ ہوگیا تو لوگ تو بری الزمہ ہوجائیں گے اور ذمہ داری ہم پر آجائے گی۔ لیہذا انہوں نے بھی میرے مشورے سے اتفاق کرتے ہوئے احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اگلے روز میرا اسلام آباد میں انٹرویو تھا، میں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہاؤسنگ کی سیٹ پر اپلائی کر رکھا تھا۔ لہٰذا میں اسی شام اسلام آباد کیلئے روانہ ہو گیا اسں دوران نہ جانے کہاں سے دوسری انجمن تاجران کمالیہ کو اس احتجاج اور کلیم اللہ طور صاحب کی دوکان کے سامنے پیش آنے والے واقعہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں سے صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اگلے روز باقاعدہ احتجاج کی کال دے دی انکی دیکھا دیکھی دوسری جماعتوں اور تنظیموں نے بھی غیر منظم طور پر پہلے تو ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر دیا، پھر 18 جون کو کچھ رہنماؤں اور تاجر تنظیموں کی جانب سے نامعلوم وجوہات کی بناء پر ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی۔ مگر اب تو دیر ہو چکی تھی تیر تو کمان سے نکل چکا تھا۔ بے ہنگم جلوس کی قیادت کچھ نوجوانوں اور شر پسند عناصر کے ہاتھ آگئی اوپر سے مقامی ایم این اے کے سیکورٹی گارڈز کے غیر ذمہ دارانہ رویہ نے چلتی پر تیل کا کام کیا اور پھر 19 جون کو پر امن کمالیہ خون اور آگ میں جلنے لگا، گیھراؤ، جلاؤ کے ساتھ ساتھ بہت سے افراد اور صحافی زخمی ہوئے اور رامش غوری نامی ایک ننھی جان بھی چلی گئی۔
آج پھر شہر میں وہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے بجلی کے بحران، غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اوپر سے بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کے ساتھ بلوں میں 3000 اور 6000 روپے فکس آر یس ٹیکس کے نفاذ سے شہریوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے دوکاندار اور چھوٹا طبقہ تاجر رہنماؤں اور سیاسی و سماجی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر نہ جانے کیوں کوئی اپنی ذمہ داری پوری کرنے کو تیار نہیں۔حالانکہ جن شر پسند اور غیر ذمہ دارعناصر کی وجہ سے 19 جون 2012 کا احتجاج خونی شکل اختیار کر گیا تھا آج ان میں سے کچھ عناصر جن کا نام لینا میں یہاں پر میں مناسب نہیں سمجھتا دوسری انجمن تاجران کے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ ان حالات میں اگر پھر خدانخواستہ 19 جون جیسا واقعہ رونما ہوگیا تو اس کی ذمہ داری ہم سب پر ہوگی۔
پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان اور عہدیدران جوکہ عمران خان اور نواز شریف کی تقریروں پر اپنے سیاسی مقاصد کیلئے بلاوجہ بھی گھروں سے نکل پڑتے ہیں وہ بھی اس صورتحال پر خاموش ہیں بلکہ الٹا پریس کانفرنس کے زریعے احتجاج ریکارڈ کرانے والے مرکزی انجمن تاجران کے رہنماؤں کو سیاسی مخالف قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ نہ جانے کیوں ہم ایک بے حس قوم بنتے جارہے ہیں ہم اپنے حقوق تو مانگتے ہیں مگر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مشتعل ہونے پر آتے ہیں تو دعا زہرا جیسے معاملہ کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیتے ہیں اور بے حس ہونے پر آتے ہیں تو ملک دولخت ہونے پر بھی خاموشی اختیار کئیے رکھتے ہیں اور اس کی وجوہات تک جاننے کی کوشش نہیں کرتے، یہںی وجہ ہے کہ ہمارا ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ہم اخلاقی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی طور پر ایک ناکام قوم ثابت ہو رہے ہیں، اس لئیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لوگ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ سچ کو سچ، صیح کو صیح، غلط کو غلط اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کہنے کی ہمت پیدا کریں اپنی ذاتی زندگی پر قومی زندگی اور مفادات کو عزیز رکھیں، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔