تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات نہ ہونے والی فیکٹریوں کو بند کیا جائے۔ سربراہ بیت المال سندھ و رہنما پی ٹی آئی حنید لاکھانی

ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات نہ ہونے والی فیکٹریوں کو بند کیا جائے۔ سربراہ بیت المال سندھ و رہنما پی ٹی آئی حنید لاکھانی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سربراہ بیت المال سندھ و رہنما پی ٹی آئی حنید لاکھانی نے کہا ہے کہ کراچی میں لاتعداد ایسی فیکٹریاں ہیں جو غیر قانونی بھی ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے کوئی اقدامات نہیں ہیں، ایسی تمام فیکٹریوں کو بند کیا جائے جن کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے کوئی اقدامات نہیں ہیں۔ مہران ٹاؤن فیکٹری میں بھی آگ بجھانے والے آلات اور دیگر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوا۔

ان خیالات کا اظہارا نہوں نے حنید لاکھانی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کیا۔ حنید لاکھانی نے کہا کہ سندھ حکومت کو عوام کی کوئی پروا ہی نہیں ہے کچھ روز قبل کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے میں زندہ انسان جل گئے اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی کراچی میں ایسے واقعات ہوئے ہیں لیکن سندھ حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

سندھ کے حکمران بے حس اور ظالم لوگ ہیں جن کے دلوں میں کوئی خوف خدا رہا ہی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ جب کبھی ایسا کوئی سانحہ یا حادثہ پیش آتا ہے تو کچھ مفاد پرست سیاستدان اپنی سیاست چمکانے لگ جاتے ہیں جوکہ افسوسناک عمل ہے، کراچی کو تباہ کرنے میں مفاد پرستوں کی سیاست کا بڑا کردار ہے۔ غریب مر رہا ہے اور حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں ہے۔ مہران ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگی لیکن سندھ حکومت کے پاس فائر برگیڈ کی گاڑیاں ہی نہیں تھیں، ایمبولینس، فائربرگیڈ اور کسی بھی قسم کی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے بنیادی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہر انسان ٹیکس دیتا ہے اور ہر چیز پر ٹیکس دے رہا ہے لیکن کوئی سہولت ہی نہیں ہے۔ فائربرگیڈ کا مقصد صرف یہ نہیں ہوتا کہ آگ بجھا دو بلکہ کالجز، یونیورسٹیز، فیکٹریز، کارخانوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے آگاہی اور ٹریننگ بھی دینا اس کا کام ہے، فیکٹریوں میں ایمرجنسی کی صورت میں نکلنے کا راستہ اور تمام دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے اقدامات کا ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے پر حکمران عیاشی کر رہے ہیں جبکہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے غریب زندہ مر رہے ہیں، مہران ٹاؤن واقعہ پہلا نہیں ہے اس سے قبل بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود سندھ حکومت ایسی صورتحال سے نمٹنے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی اقداما ت نہیں کیے، انہوں نے مزید کہا سندھ کے حکمران صرف میڈیا پر آکر بیان بازی اور امداد کا اعلان کر کے چلے جاتے ہیں اور وہ امداد بھی غریبوں کو نہیں ملتی صرف اعلان ہی ہوتا ہے اور اعلان کردہ امداد بھی حکمران خود ہی کھا جاتے ہیں۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے