تازہ ترین
Home / آرٹیکل / تعلیمی ایمرجینسی،،، تحریر: پروفیسر ناجیہ الماس

تعلیمی ایمرجینسی،،، تحریر: پروفیسر ناجیہ الماس

تعلیمی ایمرجینسی

تحریر: پروفیسر ناجیہ الماس

اسلام اور تعلیم کا چولی دامن کا ساتھ ہے، دونوں ایک دوسرے کے لئے گویا لازم و ملزوم ہیں۔ جیسے کہ بدن روح سے جدا ہو جیسے اگر ان میں ایک کو دوسرے سے الگ کیا جاۓ۔

فقط اس بات سے اندازہ لگایا جاۓ کہ جبرائیل امین جب پہلی بار وحی لیکر حضور اکرم صلی الله علیہ والیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوۓ تو رب کائنات کا امام الانبیا کے لئے پہلا پیغام تھا کہ "پڑھ”محبوب خدا نے اپنے محب کے پیغام پر لبیک کہتے ہوۓ حکم کی تعمیل کے لئے ہمیشہ آبیاری جاری رکھی، جنگ بدر میں جو غیرمسلم مسلمانوں کے ہاتھ جنگی قیدی قید ہوۓ ان کی رہائی کے بدلے جو ہرجانہ طے ہوا وہ فی قیدی دس مسلم بچوں کو پڑھانا مقرر کیا گیا۔
آنحضرت صلی الله علیہ والیہ نے مسلم مرد و خواتین پر یکساں تعلیم پر زور دیا ہے۔ باوجود اس کے کہ جب ہم اپنے وطن عزیز کی شرح خواندگی کو دیکھتے ہیں تو وہ نہایت کم سطح پر نظر آتی ہے۔ کسی بھی قوم کے قابل باشعور قابل اخلاقی معاشی و معاشرتی استحکام کے لئے اس قوم کا تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: ضلع جعفرآباد میں احساس پروگرام میں مستحق لوگوں کی آنے والی .رقوم سے ایجنٹوں کی. طرف سے کٹوتی کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ محمد حنیف جمالی
https://www.nopnewstv.com/strongly-condemn-the-cuts

ہمارا ملک ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ ناخواندگی نے اس کی ترقی میں مزید رکاوٹیں پیدا کردی ہیں۔ اس معاملے کو لیکر وزیر اعظم عمران خان جوکہ خود بھی ایک تعلیم یافتہ شخص ہیں انہوں نے ایک اہم فیصلہ کیا۔ ہم یہ دیکھتے رہے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان ملک میں تعلیمی سرگرمیوں میں ہمیشہ سے ہی دلچسپی لے رکھی ہے سو گزشتہ ہفتے انہوں نے ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا۔ کہ ملک بھر میں بلا تسخیص بچوں کے لئے اٹھارہ سال کی عمر تک حصول تعلیم کے لئے فرض کردیا گیا ہے اس پالیسی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے والدین بلخصوص والد پر گہری ذمے داری ڈالی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اٹھارہ سال کا ہونے تک لازمی تعلیم دلوائیں بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جاۓ گی۔

"حدیث نبوی” ہے کہ "تعلیم ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے”۔ جہاں بات ریاست مدینہ کی ہو اس حدیث سے چشم پوشی کی جاۓ یہ کیسے ممکن ہے تادم تحریر ہم نے دیکھا کہ اس حدیث سے اجتناب برتا جا رہا ہے۔ وطن عزیز جہاں نہ صرف انگنت قربانیاں دینے کے بعد ظہور پذیر ہوا جبکہ اس کے قیام میں مذہب اسلام کی آئیڈیالوجی کی ایک کلیدی حیثیت رہی ہے لہذا تقاضا یہ بنتا ہے کہ یہاں اسلامی تعلیمات کا دور دورہ ہو۔ علاوہ ازیں جمہوریت کا بول بالا ہو، تعلیم و تربیت کے لئے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ اس سلسلے میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ ایک قابل ستائش پیش رفت ہے۔

تاہم ایک افسوسناک امر یہ ہے کہ تعلیم جیسے اہم شعبہ میں جو کسی بھی ملک کی اجتماعی اور انفرادی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان عالمی سطح کے رائج کردہ پیمانہ پر انتہائی غیر تسلی بخش اور غیر مستحکم پوزیشن پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ خواندگی کی شرح نہایت کم ہے، جبکہ معیار تعلیم انتہائی توجہ طلب ہے۔ خاص طور سے اگر بات کی جاۓ سرکاری اسکولوں کی تو ان میں غیر تربیت یافتہ اساتذہ، عملہ، طریقہ کار حتی کہ تمام تر لوازمات کار ایک تبدیلی کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف پرائیویٹ اسکولز کی آسمان سے باتیں فیس اور دیگر اخراجات عام انسان کی دسترس سے ہیں۔ اس لئے سرکاری اسکولز پر کام کرنا اور ان کو بہتر بنانا اشد ضروری ہے۔ مزید برآں کہ عمدہ نظام تعلیم بہت کم طالب علموں کو میسر آنے کی وجہ سے یوتھ کی بڑی تعداد ان پلیٹ فارم تک پہنچنے سے قاصر ہے جو نہ صرف ان کو بلکہ وطن عزیز کی ترقی کی رہ استوار کرنے میں مدگار ثابت ہوں۔

تھامس بینٹگٹن میکاؤ کے مکاؤلے منٹ میں جو ایک بات بہت کام کی ہے وہ یہ کہ تعلیم کسی ایک طبقے یا گنتی کے چند لوگوں کا نہیں بلکہ کل عوام کا بنیادی حق ہے، اور ہم سب کو یہ مل کر یہ حق ان تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ موجودہ حکومت کا نہایت قابل تحسین قدم ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ نظام تعلیم جو عرصہ دراز سے تبدیلی کا منتظر ہے اس پر کام کیا جاۓ۔ نئی پالیسیاں مرتب کی جائیں حتی کہ پرائیویٹ اسکولز کی پالیسیوں کا بغور جائزہ کیا جاۓ اور اس میں چنیدہ اصول و ضوابط جو نہ صرف طالبعلموں بلکہ اساتذہ اور تعلیم و تربیت میں بہتری لانے کا سبب ہوں، اختیار کیے جائیں۔

نظام تعلیم سے متعلق تھنک ٹینک کو ایک پلیٹ فام پر جمع کیا جاۓ۔ عوام کے لئے دل میں نرم گوشہ پیدا کیا جاۓ اور ان کے مقام پر خود کو رکھ کر ان کی تعلیمی بہتری کے لئے کام کیا جاۓ۔ وزیر اعظم عمران خان کا صحت کے شعبے کو لیکر دل بہت حساس رہا ہے، ان کے موجودہ فیصلے یہ بتاتے ہیں کہ وہ یہ درد مند دل طالبعلموں، اساتذہ اور نظام تعلیم کے لئے بھی رکھتے ہیں لہذا ان سے ہماری امیدیں قوی تر ہوتی جارہی ہیں۔ ہم متوقع ہیں کہ عنقریب ہم عوام کے لئے نظام تعلیم میں بہتری اور عمدگی کے لئے مزید کئی اور پالیسیوں کے بارے میں سنیں گے بلکہ ان پر عمل درآمد ہوتا ہوا بھی دیکھیں گے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

صدارتی نظام کا ڈھنڈورا تحریر: پروفیسر رفعت مظہر

  صدارتی نظام کا ڈھنڈورا تحریر: پروفیسر رفعت مظہر قلم درازیاں آجکل پاکستان میں صدارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے