Home / آرٹیکل / یکساں نظام تعلیم تحریر: پروفیسر ناجیہ الماس

یکساں نظام تعلیم تحریر: پروفیسر ناجیہ الماس

یکساں نظام تعلیم

تحریر: پروفیسر ناجیہ الماس

شعبہ تعلیم پر کام کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ یہ پاکستان کا بہتر مستقبل کی طرف پہلا قدم ہوگا ۔ پاکستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے۔ نائیجیریا کے بعد پاکستان کا دوسرا نمبر ان ممالک کی لسٹ میں ہے جہاں بچون کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اسکول کے باہر ہے۔ جبکہ یہان یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قانونی طور پر آرٹیکل اے۔25 کے تحت ہر 5 سے 16 سال کی عمر کے بچے پر اسکول جانا فرض ہے۔ سوچنا یہ ہے ایسا کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کی تگ و دو کریں۔

یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ پرائویٹ تعلیمی اداروں اور انگریزی زبان کے عالمی زبان کا درجہ رکھنے کے سبب پاکستان کے 49 فیصد آبادی کے اس زبان کو نہ صرف سمجھ اور بول سکتے ہیں بلکہ فروغ تعلیم کا ذریعہ بننے کا سبب بھی یہی ہے۔ ہمیں سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی انگریزی زبان کی ترویج پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہی زبان کالج اور یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم دیے جانے کا میڈیم ہے۔

دوسرا اہم نکتہ نصاب ہے۔ سرکاری اداروں اور پرائویٹ اداروں میں پڑھایا جانے والا نصاب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔ دوسرا دونوں میں فقط ایک قدر مشترک ہے کہ انہیں مکمل (عرف عام میں ختم ) کروانے کی ایک دوڑ سی لگی ہوتی ہے جو در حقیقت علم سکھانے کی اصل روح کے متضاد ہے۔ یہاں وزیراعظم عمران خان کا یہ بیاں قابل ستائش ہے کہ وہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں پڑھایا جانے والا نصاب ایک رکھنا چاہتے ہیں جو کہ مستقبل قریب میں معاشرہ میں ایک ہم آہنگی پیدا کرنے کا ذریعہ بننے کا سبب بنے گا۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ آیا کہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں سے کس کے نصاب کو فوقیت دی جائے گی۔ اس نکتہ پر سب سے زیادہ غوروحوض کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی نصاب کسی قوم کے طالبعلموں کا دماغ و مذاج ایک خاص ڈھب پر ڈھالنے کا سبب بنتا ہے۔ جو انکی، معاشرہ کی اور ملک کی ترقی کی راہ متعین کرتا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اتنی بہتر بنائی گئی ہے کہ لوگوں نے پرائویٹ تعلیمی اداروں سے اپنے بچوں کو سرکاری اداروں میں شفٹ کروالیا ہے۔ یہاں لوگوں کا وہ ڈر ختم ہو گیا ہے ان کے بچے انگریزی اسکولوں کے پڑھے ہوۓ بچوں کے مقابلے میں ملازمتوں کے میدان میں پیچھے نہ رہ جائیں گے۔

سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں سمسٹر اور سالانہ سسٹم مارکس کے کم ذیادہ ہونے کا سبب بھی ہیں لیکن یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جی پی اے، سی جی پی اے، پرسنٹ ایج، پرسنٹعائل، مارکس  طالبعلموں کو ایک ریٹ ریس کے میدان کا کھلاڑی بنا رہے ہیں اور انکا رجحان علم حاصل کرنے اور اسکو عمل میں لانے کی طرف سے ہٹتا چلا جانے کا سبب ہیں ۔ اسمیں قصور طالبعلموں کا نہیں بلکہ اس فرسودہ نظام کا ہے جو کسی کی قابلیت کا پیمانہ ان مارکس کو مقرر کرتا ہے سوچا جائے کہ یہ جاننے کی سعی کی جائے کے فارغ التحصیل طالبعلم کس قدر علم حاصل کر پایا ہے، کس قدر سیکھ پایا ہے اور اس علم کو کس حد تک استعمال کرنے کے قابل بن پایا ہے۔

ہمیں ایک لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ آ یا کہ ہم سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے سے آغاز کریں یا پرائویٹ تعلیمی اداروں کے اخراجات اور فیس کم کرنے کا نوٹس لیں یا دونوں کو مساوی اہمیت کا حامل سمجھتے ہوئے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی تشکیل دیکر اسے نافذ کرنے کی طرف قدم اٹھائیں۔ یہ بہت اہم نکات ہیں جن پر ہماری آنے والی نسل کی کامیاب کاکردگی کا دارومدار ہے جو ایک مملکت کی ترقی میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ جب ہم غربت کو ختم کرنے کی طرف قدم اٹھائیں گے تو اسکولوں میں طالبعلموں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ہم تعلیم کو پروڈکٹوو بنائیں گے تو عوام اسکو اپنے بچوں کے لیے اہم سمجھیں گے نہ کہ معصوم بچوں کو چائلڈ لیبر کی دلدل میں دکھ کے ساتھ اترتا دیکھیں گے۔ جب علم کی بنیاد پہ ملازمتوں پر، آسامیوں پر، سیٹس پر انتخاب ہوگا تو یہی لوگ اپنے بچوں کے لیے ضروری خیال کریں گے تعلیم حاصل کرنا اور اس کے حصول میں وقت کا صرف کرنا۔ جب سرکاری تعلیمی اداروں اور پرائویٹ تعلیمی اداروں، اردو میڈیم اور انگریزی میڈیم اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ کی آپس میں موازنہ اور ترجیح دینا بند ہوگی تو عوام تعلیم اپنے بچوں کو دلوائیں گے۔ میں یقین رکھتی ہوں شجر سے پیوستہ رہ کر بہار کے آنے کی امید رکھنے پر کہ امید پہ دنیا قائم ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے احترام، جدوجہد اور حقوق کی یاد تازہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے