Home / آرٹیکل / متحدہ اپوزیشن کی تشکیل تحریر: محمد اصغر بھٹی

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل تحریر: محمد اصغر بھٹی

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل

تحریر: محمد اصغر بھٹی

ماضی میں آصف علی زرداری کے جو تیور تھے انہیں دیکھ کر یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ پیپلز پارٹی ذہنی اور قلبی طور پر اتنی جلد مسلم لیگ (ن) کے قریب آ جائے گی۔ الیکشن 2018ء سے قبل (ن) لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف نے بڑی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ چند پوائنٹس پر اکٹھے ہو جائیں۔ سینٹ کے الیکشن میں چیئرمین شپ کے لیے نواز شریف نے رضا ربانی کو نامزد کرنے کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ مگر آصف علی زرداری نہ مانے اور پی ٹی آئی سے مل کر رضا ربانی کی بجائے صادق سنجرانی کو بطور چیئرمین سینٹ منتخب کرا دیا۔ تمام سیاسی اور صحافتی حلقوں نے اس پر انتہائی تعجب کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی میں بھی اس پر حیرانی پائی گئی لیکن جو کچھ ہونا تھا وہ ہو گیا اور اس کے بعد جو ہوا وہ اس سے بھی حیران کن تھا۔ صدارتی الیکشن کے لیے پیپلز پارٹی نے جب اعتزاز احسن کو نامزد کیا تو نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کا نفاق مزید بڑھ گیا۔ اعتزاز احسن ن لیگ کو کسی طرح بھی گوارہ نہیں تھے۔ کیونکہ اعتزاز احسن ن لیگ کی قیادت کے خلاف جو بیان دیتے رہے تھے، اُن بیانات نے ن لیگ کے بھی تیور بگاڑ دئیے تھے اور پھر وہی ہوا جو گمان غالب تھا۔یعنی صدر کے اس اہم عہدے کے لیے اعتزاز احسن یہ الیکشن ہار گئے۔ ن لیگ اور دیگر جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کو اپنا مشترکہ صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔ لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہو سکے اور اپوزیشن کی ان دو بڑی جماعتوں یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے نفاق کا پورا فائدہ پی ٹی آئی نے اٹھایا اور اُن کے امیدوار عارف علوی اکثریتی ووٹ لے کر صدر پاکستان بن گئے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین جو فاصلے اور دوریاں قائم ہوئیں۔ انہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ فاصلے اور دوریاں ابھی باقی رہیں گی لیکن قانونی و سیاسی حالات و مسائل نے جو شدت اختیار کر لی ہے اور جن کا شکار مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور پیپلز پارٹی کی قیادت نظر آتی ہے۔ انہیں یکسر قریب لے آئی ہے۔ گزشتہ ہفتے جب آصف علی زرداری اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بعض معروضی حالات کا ذکر کرتے ہوئے جب یہ عندیہ دیا کہ وہ پی ٹی آئی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے ہیں جس کے لیے اپوزیشن کو متحد ہونا ہوگا اور متحدہ اپوزیشن کے تحت موجودہ حکومت کے خلاف اسمبلی میں قرار داد لانا ہوگی تو ہر طرف اس پر حیرانگی کا اظہار کیا گیا۔ اسی نیوز کانفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری نے نواز شریف کی طرف بھی دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور باتوں باتوں میں یہ بھی کہہ گئے کہ آج وہ جو مقدمے بھگت رہے ہیں وہ نواز شریف ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔ بات یہیں پر ہی ختم نہیں ہوئی۔ آصف زرداری اپنی بات بڑھانے کے لیے مولانا فضل الرحمن کے گھر اسلام آباد پہنچ گئے اور انہیں نواز شریف سے ملاقات کا مشن سونپا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمن ناصرف آصف علی زرداری صاحب بلکہ نواز شریف کے بھی مشترکہ دوست ہیں۔ زرداری، فضل الرحمن ملاقات کے بعد ایسے لگتا ہے کہ جیسے برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ فضل الرحمن کا ان سارے حالات کے تناظر میں میاں صاحب سے جو ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے اس نے دوستی کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کر دیا ہے۔ میاں نواز شریف نے بھی مولانا صاحب کے ذریعے آصف علی زرداری کے گلے شکوؤں کو دور کرنے کی بات کی ہے اور زرداری صاحب کے شکوے کے جواب میں کہا ہے کہ زرداری صاحب اپنی غلط فہمی دور کر لیں کہ اُن کے دور حکومت میں زرداری صاحب پر جو مقدمات قائم ہوئے وہ انہوں نے قائم نہیں کئے۔ اس سارے منظر اور پیش منظر میں لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ملنے میں آسانی پیدا ہوگئی ہے۔ اسلام آباد میں تمام اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی بلانے کی بھی بات کی گئی ہے۔ اس اے پی سی کی کوئی حتمی تاریخ تو مقرر نہیں ہوئی لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ رواں ماہ کے آخر یا نومبر کے پہلے ہفتے میں اس اے پی سی کا انعقاد ہو سکتا ہے۔ اس اے پی سی کی میزبانی آصف علی زرداری کے حصّے میں آئے گی یا میزبان میاں محمد نواز شریف ہوں گے۔ ابھی طے نہیں ہوا لیکن اس اے پی سی کا انعقاد یقینی ہو گیا ہے۔ یہ اے پی سی منعقد ہوتی ہے تو یقیناً پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا اپوزیشن اتحاد دیکھنے میں آئے گا۔ اس’’اتحاد‘‘ کی کیا ترجیحات ہوں گی۔ ابھی اس کے کوئی خدوخال سامنے نہیں آئے لیکن گمان غالب یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیاں یونہی چلتی رہیں جن میں بہت زیادہ ابہام اور کمزوریاں ہیں تو ان کی حکومت کے لیے بہت زیادہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا ابھی تک مؤقف تو یہی ہے کہ وہ حکومت کو گرانا نہیں چاہتے۔ اسے موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ حکومت کے ذریعے اپنی کارکردگی سامنے لائے۔ جیسے کہ انہیں توقع ہے کہ اگر یہی پالیسیاں چلتی رہیں اور مہنگائی کا ہی دور دورہ رہا تو عوام خود سڑکوں پر آجائیں گے اور انہیں مزید کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں اور ہماری شدید خواہش ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت چلتی رہے تاکہ عمران خان ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے لیے جن عزائم کو لے کر برسر اقتدار آئے ہیں اُس میں انہیں کامیابی ہو اور ملک صحیح سمت کی طرف گامزن ہو جائے۔ گزشتہ 70 سالوں میں پاکستان کے ساتھ جو کھلواڑ ہوتا رہا وہ آئندہ نہ ہو۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے احترام، جدوجہد اور حقوق کی یاد تازہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے