تازہ ترین
Home / اہم خبریں / چترال میں سال 2022 کی شجر مہم کا آغاز کردیا گیا۔ اس مہم کے دوران 22 لاکھ پودے لوگوں میں مفت تقسیم کئے جائیں گے

چترال میں سال 2022 کی شجر مہم کا آغاز کردیا گیا۔ اس مہم کے دوران 22 لاکھ پودے لوگوں میں مفت تقسیم کئے جائیں گے

چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) محکمہ جنگلات چترال نے سال 2022 کی شجر کاری مہم کا آغاز کردیا۔ محکمہ جنگلات کے کیسو کے نرسری میں سے کامیاب پودے مقامی لوگوں میں مفت تقسیم کئے گئے۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پودے لگانے سے نہ صرف ماحولیات پر اچھے اثرات پڑتے ہیں بلکہ اس سے سیلاب کی شرح بھی کم سے کم ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: اسپتال، میڈیل کالجز و یونیورسٹیز خواتین کے لئے غیرمحفوظ بنتے جا رہے ہیں۔ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور
https://www.nopnewstv.com/medical-colleges-and-universities ‎

اس سلسلے میں دوسری تقریب خیر آباد کی نرسری میں منعقد ہوئی جہاں سے لوگوں میں جنگلی پودے مفت تقسیم ہوئے۔ مقامی لوگوں نے حکومت کے اس اقدام کو نہایت سراہا۔ ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ ان میں پھل دار پودے بھی مفت تقسیم کریں جبکہ ان نرسریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا تھا کہ ان کو بروقت مزدوری نہیں ملتی اور ان کی روزمرہ اجرت بھی بہت کم ہے اسے زیادہ کیا جائے۔

سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر عزیز ولی کا کہنا ہے کہ جنگلات کی بقاء سے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ وابستہ ہے کیونکہ ہر سال سیلاب کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ڈویژنل فارسٹ آفیسر سردار فرہاد نے بتایا کہ یہ وزیرا عظم عمران خان کا ویژن کی ایک کڑی ہے کہ ملک میں دس ارب پودے لگائے جارہے ہیں اس سے جنگلات پر بوجھ کم ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شجرکاری مہم سے ملک میں جنگلات کی کمی پر کافی حد تک قابو پایا جائے گا اور ان جنگلی پودوں کے کامیاب ہونے کے بعد لوگوں کو سوختنی لکڑی دستیاب ہوگی اور قومی جنگل پر بوجھ کم ہوگا۔ ڈی ایف او چترال نے لوگوں پر زور دیا کہ کہ ان پودوں کو صرف لگانا کافی نہیں ہے بلکہ انہیں کامیاب کرنا اصل مقصد ہے کیونکہ پودے لگانا صدقہ جاریہ بھی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈویژنل فارسٹ آفیسر نے بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ یہاں کے لوگ کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے لکڑی استعمال کرتے ہیں جس سے جنگلات پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے انہوں نے تجویز دی کہ اگر لوگوں کو ایل پی جی گیس یا سستی نرح پر بجلی فراہم کی جائے تو وہ لکڑی کی بجائے یہ متبادل ایندھن استعمال کریں گے جس سے جنگلات بچ جائیں گے اور لوگ بھی سیلاب کی شکل میں تباہی سے بچ جائیں گے کیونکہ جنگلات نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب زیادہ آتے ہیں اور اس کی نقصان کی شرح بھی بہت ہوتی ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے