کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے جسٹس وجیہہ پر تبراء کرنے کی بجائے عمران خان کا ذریعہ آمدن ڈکلیئر کریں۔ دوسروں سے منی ٹریل مانگنے والے، اپنے منی ٹریل پر سیخ پا کیوں ہیں؟ جسٹس وجیہہ عام لوگوں کے نمائندہ ہیں، انہوں نے عمران خان کے فریب کی پول کھول دی۔ عمران خان کی پچھلے دو دہائیوں سے ذاتی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ عمران خان نجی اخراجات کی ادائیگی کے معاملے میں کورٹ میں جانے کی ہمت نہیں کر سکتے۔ جہانگیر ترین نے ان اخراجات کا بوجھ اٹھانے کے متعلق انکار کرکے عمران خان کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ عمران خان کو عدالت میں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ان اخراجات کی ادائیگی کون کرتا ہے؟ پوری زندگی تحفے تحائف کے نام پر وصولی کر کے مفت میں گزاری ہے۔ ان تحائف کے احسانات کا بدلہ کس طرح اتارا جاتا ہے؟ دیانتداری تقریروں سے نہیں کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ فواد چودھری بیان بازی کی بجائے جسٹس وجیہہ کے بیان کا ٹھوس جواب دیں۔ فواد چوہدری وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔ آخر میں گھر کا یہ بھیدی لنکا ڈھا دے گا۔ عمران خان نے اپنی ساری زندگی میں سینتالیس لاکھ روپے ٹیکس کی ادائیگی کی ہے، پھر وہ پچاس لاکھ ماہانہ گھریلو اخراچات کا بوجھ کیسے اٹھاتے ہیں؟ پاسبان جسٹس وجیہہ کے ساتھ کھڑے ہیں، دھوکے بازوں کا مقابلہ ڈٹ کر کریں گے۔ خزانہ اور خواب لوٹنے والوں کے حساب کا وقت آگیا ہے۔ قوم کو ساتھ ملا کر اندھیر نگری ختم کریں گے۔ محمد علی سوسائٹی میں ہونے والے پاسبان کے مرکزی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ خوبصورتی اور شہرت بیچنے والے ملک پر مسلط ہیں، انکا کاروبار مزید نہیں چل سکتا۔ فواد چودھری جسٹس وجیہ پر مقدمے کا شوق پورا کرلیں۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والوں میں جرأت ہے تو جسٹس وجیہہ کا مقابلہ میدان میں آکر کریں۔ وزیر اعظم عمران خان کبھی بھی اس معاملے پر کورٹ میں جانے کی ہمت نہیں کر سکتے۔ جائیں گے تو منہ کی کھانی پڑے گی کیونکہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد ایک ایماندار انسان اور جج کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ وہ ایسی بات نہیں کہہ سکتے جس کا سامنا کرنا ممکن نا ہو۔ عمران خان کے ذریعہ آمدنی اور اخراجات پر سوالات پہلی بار نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ عمران خان سے دھرنے کے دنوں میں جب ٹیکس ایشوز پر سوالات اٹھائے گئے تھے تو انہوں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر وعدہ کیا تھا کہ وہ ان سوالات کے جوابات دیں گے جہاں پر کسی کو بھی سوال پوچھنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ دھرنے کے اختتام پر بھی ان کی طرف سے ان سوالات کے جواب نہیں دیئے گئے تھے۔ اور یہ سوالات آج بھی ہنوز جواب طلب ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود دستاویزات کے مطابق بنی گالا کا کل رقبہ تین سو کنال اور پانچ مرلے ہے جب کہ دس ہزار مربع فٹ زمین پر یہ عمارت تعمیر ہے۔ اس گھر میں لاتعداد کمرے اورآرام گاہیں اور دوسرے لوازمات ہیں۔ عمارت کی دیکھ بھال کے لئے کئی ملازمین ہوں گے اور دیکھ بھال پر ہونے والا خرچہ بھی بہت ہوگا۔ وزیر اعظم کے انکم ٹیکس گوشوارے دیکھیں تو اس میں ان کی کوئی آمدنی نہیں، نا ہی کوئی ذریعہ آمدنی ہے جبکہ دو لاکھ روپے تنخواہ میں ان کا گذارہ نہیں ہوتا۔ اب عوام یہ جاننے میں حق بجانب ہیں کہ ان کا وزیر اعظم سارے اخراجات کیسے پورے کرتا ہے؟ بنی گالا، جاتی عمراء اور بلاول ہاؤس جیسے شاہی محلات کے مقیم قوم کی محرومیاں دور نہیں کرسکتے۔ کرکٹ اسٹار نے شہرت کی آڑ میں قوم کے ارمان لوٹے انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔