کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکٹری حافظ احمد علی مفتی عابد،علی عثمانی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسلام امن سلامتی اور افہام و تفہیم کا درس دیتا ہے حکومت اور مذہبی جماعتیں ملکر اس مسئلہ پر سنجیدگی سے فیصلہ کریں، سری لنکن شہری کا اس طرح سرعام دنیا کے سامنے تذلیل کرکے موت کے گھاٹ اتارنا سرکار کی اور تمام سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اس طرح شرپسند ی پھیلانا اور کھلے عام قانون کا مذاق بنانا اور قانون شکنی کرنا اسلام عدالتوں اور قانون اور پاکستان کا مذاق بنانا ہے اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے عالم کفر ایک بار پھرچند نادان مسلمانون کی اس بھونڈی حرکت پر وایلا مچا رہا ہے اور پاکستان کو ساری دنیا میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ایک طرف یہ بھی ہے کہ سرکار قانون پر عمل درآمد کروانے میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہے اگر توہین رسالت کے مجرم کو سزا دی جائے اور قانون کے مطابق اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تو امید کی جاسکتی ہے آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے، لیکن اس طرح سرکاری اور عام شہری کی املاک کو نقصان پہنچانا فورس کے لوگوں پر تشدد کرنا اور عام شہریوں کو زد و کوب کرنا سراسر اسلام دشمنی ہے، اسلام عام شہری ذمی کافر کے حقوق کے تحفظ کا درس دیتا ہے اس طرح کے واقعات سے ملک بدامنی اور معاشی طور پر کمزوری کا شکار ہوگا، حضور سرور کونین ﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے، اس وقت پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں، فرانس نے آقا ﷺ کی شان میں اس طرح کی بے ہودہ حرکتیں کر کے دنیا کا امن تباہ کرنا چاہا، عالمی تنظیموں نے ملکر اس گستاخی کا نوٹس نا لیا تو پورا عالم اسلام اس گستاخی پر خاموش نہیں بیٹھے گا، اسلام تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو جن کی وہ پرستش کرتے ہیں انہیں برا بھلا کہنے سے منع کرتا ہے، آپ ﷺ کا ارشاد ہے اگر تم ان کے باطل خدا کو برا بھلا کہو گے تو وہ تمھارے سچے خدا کو جھٹلائیں گے، مسلم حکمران غیرت ایمانی کا ثبوت دیں، اور فرانس میں ہونے والی گستاخی کا منہ توڑ جواب دیں کہ آئندہ کسی کو اس قسم کی حرکت کرنے کا خیال بھی دل دماغ میں نا آسکے، مسلم حکمران اور امت مسلمہ آقا کی ناموس اور آقا دو جہان کی عزت توقیر کے لئے میدان عمل میں نکلیں اگر مسلمان آقا کی ناموس پر پہرا نہیں دے سکتے تو اپنے ایمان کی خیر منائیں۔ مملکت خداداد پاکستان اور پاکستان کے ہر ایک مسلمان اور شہری نے فرانس کے خلاف آواز بلند کی اور تمام اہل ایمان آج تک سراپا احتجاج ہیں حکومت فرانس کو منہ توڑ جواب دے اور حکومت فی الفور امن و امان کی فضاء کو قائم کرے اور ملک میں سیاسی معاشی صورت حال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرے۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام سندھ کے امیر پیر عبدالمنان انور نقشبندی، سیکٹری اطلاعا ت مفتی عابد، جمعیت علماء اسلام کراچی سرپرست اعلی ٰ پیر لیاقت علی شاہ، جنرل سیکٹری علامہ مولانا حماد مدنی، صاحب زادہ غلام مصطفی فاروقی، عبدالستار بلوچ، مفتی محمد نقشبند ی، مفتی ظل الرحمن، مفتی فیضان، مولانا اقبا ل اللہ، مولانا حضرت ولی ہزاروی، مولونا قاری لیاقت رحمانی، مولانا ناصر محمود ہزاروی، مولانا شاہد ملک، ملک نعیم ملک دانش اور دیگر رہنماؤں نے بھی سیالکوٹ واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔