تازہ ترین
Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں 1905 تا 1946 کراچی کے اسٹوڈنٹس مومنٹ کی تاریخ پر مبنی کتاب ”کراچی اسٹوڈنٹس آن دی مارچ “ کی تقریب رونمائی کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں 1905 تا 1946 کراچی کے اسٹوڈنٹس مومنٹ کی تاریخ پر مبنی کتاب ”کراچی اسٹوڈنٹس آن دی مارچ “ کی تقریب رونمائی کا انعقاد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے دایو نٹہنے کی کتاب اسٹوڈنٹس آن دا مارچ کی تقریب رونمائی آرٹس کونسل لابی میں کی گئی، تقریب سے اعجاز قریشی، سہیل سانگی، وقاص عالم انگاریہ، ورثہ پیرزادہ نے اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض توصیف احمد نے انجام دیے۔ اس موقع پر پروفیسر اعجاز قریشی نے کہا کہ 1905 سے 1946ء تک اس تحریک میں بہت سے طلباء پارٹی لیڈر بننے کے لیے بڑے ہوئے، اس کتاب کا اردو اور سندھی میں ترجمہ کرنے کی ضرورت تھی۔ سہیل سانگی نے کہا کہ مجھے یہ کتاب چند صفحات کم ہونے پر بھی مکمل نظر آتی ہے، اس دور میں برصغیر میں بڑے پیمانے پر بڑی بڑی تحریکیں چلائی گئیں، مسلم لیگ کا وجود بھی 1906ء میں ہوا ، سندھ کی بڑی تحریک 4 مارچ 1967 کو سندھ یونیورسٹی سے شروع ہوئی، میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم کے حوالے سے جو بھی طالب علموں کے لیے منشور پیش کیا گیا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، وقاص انگاریہ نے کہا کہ بنیادی طور پر ہم جب کسی ماضی کی کتاب جس کا تعلق خاص کر اسٹوڈنٹس یونین، اسٹوڈنٹس موومنٹ تو ہمارے لیے وہ ایک آئینہ کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے ذریعے ہمیں مستقبل اور موجودہ حال میں چیزوں کا تجزیہ کرنے میں مدد ملتی ہے، انہوں نے کہا کہ آج بھی ہماری لڑائی اَن دیکھے سامراج سے چل رہی ہے، طلبہ تنظیموں کو پارٹی کا ونگ نہیں فرنٹ ہونا چاہیے، طلبہ تنظیموں کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ اس سماج کے اندر مردہ ہوچکے شعور کو دوبارہ سے ایک نئی زندگی بخشے۔ ورثہ پیرزادہ نے کہا کہ یہ کتاب پڑھ کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، ماضی میں بھی طالب علموں نے بہت جدوجہد کی اس کتاب کو ہمیں ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔ محمد عرفان نے طلبہ کے حقوق پر مبنی منشور کا اردو ترجمہ پڑھ کر سنایا، جس میں طالب علموں کے حقوق وضع کیے گیے، انہوں نے کہا کہ آج کا طالب علم کا شہری ہے ان کی خواہش ہے کہ وہ ملک کی خدمت میں پیش پیش ہوں۔ اسلم خواجہ نے کہا کہ اس کتاب میں 1905 سے 1946 تک اسٹوڈنٹس موومنٹ کی داستان بیان کی گئی ہے جو آج تک ہمارے علم میں ہی نہیں تھی، ہیموکالانی کو کتاب کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے جو آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پہلے شہید تھے جنہیں سکھر میں پھانسی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ کتاب میں کچھ صفحات نہ ملنے کے سبب مواد پورا نہیں مگر ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اسے مکمل کرکے منظر عام پر لائیں، اس کتاب کو لوگوں تک پھیلانے کی کوشش کی جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے