اسلام آباد (اسپورٹس رپورٹر) بلوچستان نے قومی مینز تھرو بال چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کرکے اپنے دفاع کے اعزاز کو برقرار رکھا ہے۔ جبکہ خیبرپختونخوا نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ فائنل میچ کے مہمان خصوصی وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیر وزیر زادہ تھے۔ جنہوں نے چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں میڈلز، اسناد اور ٹرافیاں تقسیم کیں۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا تھرو بال ایسوسی ایشن کے صدر و صوبائی وزیر خلیق الرحمن، ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئر کے ڈپٹی ڈائریکٹر ارشد حسین، پاکستان تھرو بال فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل مقبول آرائیں، رکن مجلس عاملہ رانا تنویر احمد، پاکستان روک بال فیڈریشن کی سیکرٹری جنرل امہ لیلی کلثوم رانا، پنجاب تھرو بال ایسوسی ایشن کے سیکرٹری رانا سجاد اکبر، بلوچستان تھرو بال ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منظور احمد سرپرہ اور خیبرپختونخوا روک بال ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سمیع اللہ مروت کے علاوہ شائقین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔
یہ بھی پڑھیں۔ کنڈیارو میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے نے اعلیٰ حکام سے جان کے تحفظ کی اپیل کردی https://www.nopnewstv.com/appealed-to-the-higher
چیمپئن شپ کا فائنل میچ خیبرپختونخوا اور دفاعی چیمپیئن بلوچستان کی ٹیموں کے درمیان بٹہ کنڈی میں کھیلا گیا جس میں دفاعی چیمپئن بلوچستان نے خیبرپختونخوا کو ایک سخت مقابلے کے بعد 1-2 سے شکست دے کر اپنے دفاع کے اعزاز کو برقرار رکھا۔ پہلے سیٹ میں دفاعی چیمپئن بلوچستان نے خیبرپختونخوا کے خلاف 12-25 سے کامیابی حاصل کی۔ دوسرے سیٹ میں خیبرپختونخوا کی ٹیم نے 15-25 سے کامیابی حاصل کرکے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ تیسرے سیٹ میں دفاعی چیمپئن بلوچستان نے خیبرپختونخوا کو ایک سخت مقابلے کے بعد 23-25 سے ہر ا کر مقابلہ 1-2 سے جیت لیا۔ دفاعی چیمپیئن بلوچستان نے پنجاب کو جبکہ خیبرپختونخوا نے سندھ کو شکست دے کر فائنل کے لئے کوالیفائی کیا تھا۔ فائنل سے قبل تیسری پوزیشن کا میچ سندھ اور پنجاب کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جس میں سندھ نے پنجاب کو 0-2 سے شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی، سندھ نے دونوں سیٹوں میں 16-25 اور 19-25 سے فتح حاصل کی۔ چیمپئن شپ میں ملک بھر سے 8 ٹیموں نے لیا۔ جن میں پاکستان واپڈا، پاکستان پولیس، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں اور اسلام آباد کی ٹیمیں شامل تھیں۔ چیمپئن شپ پاکستان تھرو بال فیڈریشن کے زیر اہتمام اور ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئر کے تعاون سے کھیلی گئی۔