کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے سگ گزیدگی کے بڑھتے ہوئے واقیعات کو حکومت کی نا اہلی قرار دیا ہے اور سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے ریمارکس کا خیر مقدم کیا ہے کہ سگ گزیدگی کے واقعہ میں متعلقہ علاقہ کے ایم پی اے کو معطل کر دیا جائے۔ پانی اب سر سے اوپر ہو گیا ہے، عوام اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لئے اس طرح کے فیصلے اور ان کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ سگ گزیدگی کے واقعات کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے، متعلقہ ضلعی افسران کو بھی معطل کیا جائے۔ جتنا ایک ایم پی اے کی سیکیورٹی پر خرچ ہوتا ہے اتنی رقم میں پورے سندھ میں ویکسین کا انتظام ہو سکتا ہے لیکن بچوں کی حفاظت سے زیادہ براؤن صاحب کو اپنی حفاظت عزیز ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں، انتظامی اداروں کی نااہلی اور غفلت و لاپرواہی نے پورے ملک کو آوارہ کتوں کے حوالے کردیا ہے۔ سندھ میں یہ صورتحال اور بھی زیادہ خوفناک ہے۔ سگ گذیدگی کے واقعات بے تحاشہ بڑھ چکے ہیں لیکن حکومت ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہے۔ سندھ میں سگ گزیدگی کے ایک ہزار سے زائد لوگ شکار ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر بچے ہیں۔ بروقت طبی امداد اور ویکسین کی دستیابی سے ان کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں لیکن ان بچوں کی جان حکمرانوں کے نزدیک بے وقعت ہے۔ ایسے میں عدالت عالیہ کی جانب سے سگ گزیدگی کے واقعات کا نوٹس لینا امید کی کرن ہے۔ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے ریمارکس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے پاسبان کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے مزید کہا کہ پاکستان اور خصوصا سندھ میں لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جنگل میں بھی قانون ہوتا ہے لیکن سندھ میں صرف لوٹ کھسوٹ کا راج ہے۔ مقتدر قوتوں نے سندھ کو بے رحم لوگوں کے حوالے کر دیا ہے۔ ان مجبور لوگوں کی زندگی حکمرانوں کی وجہ سے اور تلخ ہو گئی ہے جو خود تو دنیا کے بہترین لائف اسٹائل سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن عوام کو کتوں کے حوالے کیا ہوا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں یومیہ مجموعی طور پر نئے اور پرانے 100 جبکہ نئے 135 کیس رپورٹ ہورہے ہیں۔ شہری کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث خوفزدہ ہیں لیکن سرکاری اداروں کی بے حسی تاحال برقرار ہے، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور حکومت سندھ کی جانب سے سالوں پہلے کتوں کے تدارک کے لیے شروع کی جانے والی مہم تاخیر کا شکار ہے اور نس بندی کی مہمات بھی محض نمائشی حد تک محدود ہیں۔ سڑکوں پر کھلے عام دندناتے پھرتے یہ آوارہ کتے حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، حکومتی ادورں سمیت بلدیاتی ادارے صرف دفتروں میں بیٹھ کر پیسے کھانے میں مصروف ہیں۔ اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی قلت ہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر ہزاروں بچے، خواتین، نوجوان اور بزرگ کتوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جن میں سے کئی اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں۔ سندھ میں سگ گزیدگی کے واقعات کراچی، لاڑکانہ، حیدرآباد، شہید بینظیر ڈویژن، میرپور خاص جبکہ ملک کے بیشتر شہروں اور دیہاتوں میں عام ہیں۔ اقبال ہاشمی نے کہا کہ عدالت عالیہ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے عوام کو کتوں سے نجات دلانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ سگ گذیدگی کے واقعات کے بڑھنے کا انتظار شہریوں کی جانوں کو مزید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔