تازہ ترین
Home / آرٹیکل / انسانی سمگلنگ میں، ایجنٹوں کی جنت ہے "ملائیشیا” ملائیشیا میں پاکستانی کمیونٹی کے دکھ درد کا مداوا کون کرے گا ؟ تحریر: عمران عاطف چوہدری

انسانی سمگلنگ میں، ایجنٹوں کی جنت ہے "ملائیشیا” ملائیشیا میں پاکستانی کمیونٹی کے دکھ درد کا مداوا کون کرے گا ؟ تحریر: عمران عاطف چوہدری

"انسانی سمگلنگ میں، ایجنٹوں کی جنت ہے "ملائیشیا

ملائیشیا میں پاکستانی کمیونٹی کے دکھ درد کا مداوا کون کرے گا ؟

تحریر: عمران عاطف چوہدری

ملائیشیا ایک خوبصورت ملک ہے جہاں ہر سال لاکھوں سیاح گھومنے آتے ہیں وہیں پر سالانہ ہزاروں غیرملکی جن میں اکثریت پاکستانی، انڈین، بنگلادیشی، نیپالی، انڈونیشین، مینماری اور فلپائنی لوگوں کی ہے جو بہتر روزگار کی تلاش میں ملائیشیا کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ملائیشیا میں مقیم ہے۔ مگر ملائیشیا میں مقیم پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹ چکے ہیں اور بہت سے پاکستانی تو وہاں پر اپنا پاسپورٹ اور فی کس لاکھوں روپے پاکستانی ایجنٹوں کے ہاتھوں گنوا چکے ہیں۔ گھر سے آنکھوں میں بہتر مستقبل کا خواب سجا کر آنے والے پاکستانی جب ملائیشیا پہنچتے ہیں تو اس وقت ان کو احساس ہوتا ہے کہ جب وہ ایجنٹوں کے مکمل نرغے میں آجاتے ہیں تو ان کو احساس ہوتا ہے کہ کس طرح پیسے جوڑ کر وہ یہاں تک پہنچے تھے اور جو جو خواب ایجنٹوں نے دکھاۓ تھے ان کی وہ تعبیر ہی نہیں جس کا ذکر پاکستان میں سنا تھا۔ میں بھی ملائیشیا میں مقیم رہا اور وہاں میرے مشاہدے میں بھی بہت سے چیزیں آئیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ ملائیشیا ایجنٹوں کی جنت ہے تو شاید غلط نہیں ہوگا کیوںکہ ان کا طریقہ واردات کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ اکثر ایجنٹ پاکستانیوں کو وزٹ ویزا پر پاکستان سے لیکر جاتے ہیں 10 سے 15 ہزار روپے میں وہ وزٹ ویزا لگوا کر ملائیشیا بھیج دیتے ہیں جن میں جانے والے کے پاس شو منی کے ہزار امریکی ڈالر یا پھر اس کے مساوی ملائیشین رنگٹ لیکر جانے ہوتے ہیں اور ایک عدد ہوٹل بکنگ ہوتی ہے جو بآسانی آن لائن ہوجاتی ہے، جب مسافر ملائیشیا کی سر زمین پر قدم رکھتا ہے تو ان ایجنٹ مافیا کے کارندے ایئر پورٹ پر موجود ہوتے ہیں اور اگر کوئی پاکستانی مسافر ایمیگریشن کاؤنٹر پر آفیسر کے سوالوں کے جواب نہ دے سکے یا کسی اور وجہ سے روک لیا جاتا ہے تو یہ ایجنٹوں کے کارندے کاؤنٹر سیٹنگ سے ان پاکستانی مسافروں کو ایئر پورٹ سے باہر لے آتے ہیں اور اس کام کا معاوضہ بھی الگ سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت مضبوط اور منظم نیٹ ورک ہے جس میں ملائیشیا کے لوکل افراد کے ساتھ ساتھ وہاں کی ایمیگریشن میں موجود کچھ لوگ بھی شامل ہیں، یہ پورا ایک چین سسٹم ہیں جو بہت منظم طریقے سے سادہ لوح لوگوں کو لوٹتا ہے۔ بیرون ملک میں سب سے قیمتی دستاویز میں جو چیز ہے وہ ہے پاسپورٹ اور ایجنٹ حضرات اس ہی اہم دستاویز کو اپنے قبضے میں لیکر ملائیشیا میں آنے والے بیشتر پاکستانیوں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں اور اپنی کمائی کے میٹر کو آن رکھتے ہیں۔ جب ایک پاکستانی کسی بھی طرح ملائیشیا پہنچ جاتا ہے تو پھر ان میں سے اکثر کے ساتھ کچھ اس طرح بھی ہوتا ہے کہ ابھی تم آگئے ہو کچھ دن آرام کرو اس کے بعد تم کو نوکری پر لگواتے ہیں اور پھر چند روز آرام کے بعد کہا جاتا ہے کہ آپ کو نوکری پر لگوانے کی بات کرلی ہے مگر اس کام کی کچھ فیس ہے جو آپ کو ادا کرنی ہے مرتا کیا نہیں کرتا پھر وہ مجبور شخص جو رقم پاکستان سے لیکر آتا ہے اس میں سے نوکری پر لگنے کا کمیشن یعنی 50 سے 100 رنگٹ ادا کرتا ہے اور اگلے روز ملازمت پر روانہ ہوجاتا ہے بنا ورک پرمٹ کے کام پر جانا اور پھر چند روز بعد "جب اس شخص سے ورک پرمٹ اور پاسپورٹ کا مطالبہ کیا جاتا ہے کمپنی کی جانب سے” تو وہ بیچارہ پھر اپنے ایجنٹ کو کہتا ہے کہ مجھ کو پاسپورٹ اور پرمٹ کا بندوبست جلد کروا دیں کیونکہ میری نوکری کا مسئلہ ہے تو پھر ایجنٹ اس کو ایک اور میٹھی سی لولی پوپ دیتا ہے کہ بس ابھی آپ کا میڈیکل لیٹر آنے والا ہے اس کے بعد آپ کا میڈیکل ہونا ہے پھر پرمٹ بھی آجائے گا اور اکثر پاکستانیوں کے ساتھ تو یہ بھی ہوتا ہے کہ چند ہفتوں کے بعد جہاں ان کو ملازمت ملتی ہے وہاں سے ان کو فارغ کردیا جاتا ہے اور ان کی تنخواہ بھی ادا نہیں کی جاتی ہے بوجہ ورک پرمٹ۔ اور اس کے علاوہ رہائش اور میس کا بل الگ سر پر چڑھ رہا ہوتا ہے۔ میرے مشاہدے میں وہاں کچھ اور چیزیں بھی آئی ہیں کہ جب کوئی بھی پاکستانی وہاں پر ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹ چکا ہوتا ہے تو اس کو اکثر پاکستانی کمیونٹی کے اچھے لوگ ایسے پاکستانیوں کو سپورٹ بھی کرتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ ایسے افراد جو اپنے پاسپورٹ ایجنٹوں کی نظر کرچکے ہوتے ہیں ان کو بہت زیادہ رسک لیکر وہاں رہنا اور ملازمت کرنا ہوتی ہے۔ اکثر ایسے پاکستانی افراد جو ایجنٹوں کی ذلالت کا سامنا کرچکے ہوتے ہیں جب ان کو پاکستان میں پیسے بھیجنے ہوتے ہیں تو وہ اس کے لئے پھر کسی دوسرے بھروسے مند پاکستانی کو تلاش کرتے ہیں جو ایمانداری سے ان کے پیسے پاکستان میں ان کے اہل خانہ تک منتقل کروا دے۔

ملائیشیا میں جو پاکستانی بیچارے ان ایجنٹوں کے ڈسے ہوۓ ہوتے ہیں جب کبھی ان کو کسی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بیچارے اپنا علاج بھی وہاں نہیں سہی سے نہیں کروا پاتے کیونکہ ان کے پاس نہ تو پاسپورٹ ہوتا ہے اور نہ ہی ورک پرمٹ۔ اور اگر کوئی پاکستانی وہاں پر ایمیگریشن کے چھاپوں میں گرفتار ہوجاۓ تو اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے کیونکہ پہلے تو ان کو وہاں پر سزا بھگتنی پڑتی ہے اور پھر اس کے بعد واپسی کے ٹکٹ اور پھر آؤٹ پاس کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور اکثر پاکستانی اس حوالے سے کئی کئی مہینوں تک راہ تکتے رہتے ہیں کہ کوئی مسیحا آۓ گا تو ان کو اس قید سے رہائی ملے گی۔ پھر یہ پاکستانی جو پہلے اچھے خاصے پیسے ایجنٹوں کو ہاتھ گنوانے کے بعد جیل سے چھوٹتے ہیں تو ان کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر ایئر پورٹ لے جایا تھا ہے جس سے ملک کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناقابل یقین پی آئی اے کا ماضی اور حال

 یہاں میں اس بات کا ذکر اس لئے کر رہا ہوں کہ اب موجودہ حکومت نے بیرون ملک سے آنے والے زر مبادلہ کو باقاعدہ مانیٹر کرنا شروع کردیا ہے جو ایک اچھا اقدام ہے مگر اس اقدام کے ساتھ جو سب سے اہم اقدام ہے وہ یہ کہ بیرون ملک میں خاص کر ملائیشیا میں مقیم جو پاکستانی کمیونٹی ہے ان کے بارے میں بہت سنجیدگی سے کچھ اقدام کی ضرورت ہے جن میں سب سے اہم پاکستان اور ملائیشیا میں موجود ایجنٹوں کے اس نیٹ ورک کی سرکوبی کرنا اور ان کو قرار واقعی سزا دینا اور دلوانا۔ ملائیشیا میں مقیم ایسے تمام پاکستانی جو مجبوری میں وہاں ان ایجنٹوں کی وجہ سے غیر قانونی طور پر مقیم ہیں ان کے لئے حکومت ملائیشیا سے خصوصی ریاعت لیکر ان کو قانونی مقیم کیا جانا۔ ایف آئی اے کو مزید منظم کرنا کہ ایسے ایجنٹوں کو جو پاکستان میں ہیں ان کی فوری سرکوبی کرنا اور ان کو قرار واقعی سزا دلوانا۔

حکومت پاکستان اور خاص کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے لئے میری ایک ذاتی تجویز ہے کہ وہ ملائیشیا میں موجود سفارت خانہ پاکستان کے سفارتکاروں کو یہ ہدایت بھی دیں کہ جو بھی پاکستانی ایجنٹ وہاں موجود ہیں جو جو پاکستانیوں کے ساتھ دھوکہ دہی میں ملوث ہیں ایسے تمام ایجنٹوں کو مکمل فہرست بناکر وزارت خارجہ کو ارسال کریں اور پھر وزارت خارجہ یہ فہرست وزارت داخلہ کو دیں اور جو بھی ایجنٹ واپس پاکستان آۓ تو اس کو ایف آئی اے ایئر پورٹ پر ہی گرفتار کرلے اور جن جن پاکستانیوں کو دھوکہ دہی اور فراڈ سے لوٹا گیا ہے ان کی رقم بھی ان ایجنٹوں سے واپس کروائی جاۓ اور سفارت خانہ پاکستان وہاں پر موجود تمام پاکستانیوں کے ساتھ نرم شائستہ رویہ رکھیں اور جو جو پاکستانی وہاں پر جیلوں میں قید میں ہیں ان کی باقاعدہ ہفت وار جاکر رپورٹ لی جاۓ جو بھی پاکستانی شہری اپنی سزا پوری کرچکے ہیں ان کو فوری طور پر پاکستان بھیجنے کے اقدامات کیے جائیں۔ کیونکہ یہ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانی ہی ہیں جو سالانہ کروڑوں روپے پاکستان بھیجتے ہیں جس سے ہماری معیشت کو سہارا ملتا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے احترام، جدوجہد اور حقوق کی یاد تازہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے