Home / آرٹیکل / محکمہ جیل خانہ جات پنجاب اور ریاست کی ذمہ داریاں تحریر: محمد جواد بھوجیہ

محکمہ جیل خانہ جات پنجاب اور ریاست کی ذمہ داریاں تحریر: محمد جواد بھوجیہ

تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے یروشلم (بیت المقدس) میں پاک کتاب بائیبل کے مطابق قیدیوں کو بند کرنے کے لیے جیل موجود تھی۔ وہیں پاک کتاب بائبل کے مطابق مصر میں حضرت یوسف کے قید کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جن کا ذکر قر آن مجید میں بھی موجود ہے۔ ان جیلوں کو جنگی قیدیوں کو قید میں رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا وہیں اکثر غلام جو اپنے مالکوں کی نافرمانی کرتے انہیں بھی ان جیلوں میں بند کیا جاتا دوسرے معاملات میں قرض دہندہ اکثر قرضداروں کو جیلوں میں پھینک دیا جاتا جب تک کہ وہ یا ان کا خاندان اپنے واجب الادا رقم ادا نہ کرتا۔ ماڈررن جیل کی ابتدا برطانوی دور میں شروع ہوئی۔ نیدرلینڈ میں 16ویں صدی میں جیلوں کے متعلق معلومات موجود ہیں تاہم جدید جیل کا نظام لندن میں ہی متعارف ہوا، برصغیر میں برطانوی راج کے دوران پنجاب جیل کا محکمہ 1854 میں قائم کیا گیا۔

ڈاکٹر سی ہتھاوے پہلے انسپکٹر جنرل تعینات ہوئے۔ تاہم ابتدائی طور پر اس حوالہ سے کوئی قانون سازی موجود نہ تھی۔ انگریز حکومت اپنے مخالفین اور حکومتی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت کرنے والوں کو ان جیلوں میں رکھتی جیل میں ان افراد کو سخت سزائیں دی جاتیں۔ اس دور کی جیلیں دنیا بھر میں مظالم کے حوالہ سے مشہور ہوئیں۔ برصغیر میں سیاسی شعور کے اجاگر ہونے کیساتھ ہی کانگریس کے رہنماؤں کی گورنر جنرل کیساتھ ملاقاتوں میں ریفارمز کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اسی مطالبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے بالاآخر 1894 کو جیل ایکٹ کی منظوری گورنر جنرل نے دی۔ اس وقت سیالکوٹ جیل، ڈسٹرکٹ جیل شاہ پور سرگودھا، ڈسٹرکٹ جیل جہلم، ڈسٹرکٹ جیل راجن پور، ڈسٹرکٹ جیل بہاولپور، ملتان، گوجرانوالہ، فیصل آباد موجود تھیں وہیں اسی طرز پر انگریزوں نے گوالیار سے ممبئی اور آسام سے بنگال تک جیلوں کا ایک منظم نظام بنایا۔ قیام پاکستان کے بعد کرنل جی کے خان پہلے آئی جی جیل خانہ جات تعینات ہوئے۔

1981 سے پہلے پاکستان کے تمام صوبوں میں جیل حکام آرمی کی یونیفارم کی طرز پر خاکی یونیفارم پہنتے تھے جنرل محمد ضیا الحق کے دور حکومت میں کچھ فوج کے افسران نے جنگلات کے محکموں، جیلوں کے محکمہ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، بحیرہ کسٹم، لینڈ کسٹم، ایکسائزز کے اہلکاروں کی طرف سے فوج کی طرز کے یونیفارم پہننے پر اعتراض کیا اور جنرل ضیاالحق سے مطالبہ کیا کہ ان اداروں کے لیے علیحدہ سے یونیفارم ہونی چاہیے۔ جیل پولیس حکام کو جنرل ضیاالحق نے راولپنڈی طلب کیا یہ تجویز کیا گیا تھا کہ جیلوں کے پولیس افسران اب دیگر پولیس کی یونیفارم ہی پہنیں گے اور ان کو مراعات دیگر پولیس طرز کی ملیں گے۔ تاہم یونیفارم ہی پولیس کی دی گئی دیگر مراعات کو آج تک یہ فورس ترس رہی ہے۔ محکمہ جیل خانہ جات جوکہ دوسری فورسز کی طرح ایک اہم فورس ہے پاکستان کا ایک نہایت حساس ادارہ ہے جہاں چھوٹے چھوٹے مجرموں سے لیکر بڑے بڑے دہشتگردوں کی جیل بندش کے دوران حفاظت کا بندوبست کرتے ہیں۔ محکمہ جیل خانہ جات کے ملازمین جو نہایت حساس ڈیوٹی سرانجام دیتے۔ محکمہ جیل خانہ جات کے جوانوں کی ٹریننگ بھی آرمی سے کروائی جاتی ہے اور آرمی کی ہی طرز پر دن رات ڈیوٹی لی جاتی ہے جوکہ 4 گھنٹے دن کو اور 4 گھنٹے رات کو ہوتی ہے، سنٹرل جیلوں پر جو حوالدار تمام دن ڈیوٹی کرتے ہیں اگر ہم ان کی بات کریں تو وہ صبح چار ساڑھے چار بجے جاکر ڈیوٹی پر جاتے ہیں قیدیوں میں کھانا تقسیم کرواتے ہیں پھر ان قیدیوں کی جن کی تاریخ ہوتی ہے ان کو عدالتوں میں روانہ کرتے ہیں اور رات کو تمام قیدیوں کی واپسی کی بعد جن کی رہائی ہوتی ان کی رہائی کر کے تقریباً 9 سے 10 بجے فری ہوتے ہیں، اس طرح اگر ہم ان کی ڈیوٹی کا دورانیہ چیک کریں تو کم سے کم 17 گھنٹے بنتا ہے اور پھر بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی تین دن بعد رات کو ڈیڑھ گھنٹے کے راؤنڈ بھی کرنے ہوتے ہیں جو ڈیوٹی سے الگ ہوتی ہے اس کے علاوہ باقی ملازمین اپنی ڈیوٹی کے علاوہ ہفتے والے دن سپرنٹنڈنٹ کو سلامی دیتے جو ججز آتے ان کو سلامی دیتے ہر اتوار والے دن ہر جیل کے اندر تلاشی کروائی جاتی ہے جس پر تمام ملازمین کا جانا ضروری ہوتا جو نہ جائیں ان کو سزا دی جاتی ہے تلاشی کا دورانیہ کم سے کم دو گھنٹے پر محیط ہوتا یہ سب چیزیں ڈیوٹی سے الگ ہوتی ہیں ان کا دورانیہ ڈیوٹی میں شمار نہیں کیا جاتا، اور پھر جب بات کریں سہولتوں کی تو محکمہ جیل کے ملازمین کو ساری فورسز سے کم سہولتیں دی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ پچھلے چند سالوں میں تین ہزار کے قریب ملازم اس محکمے کو خیر آباد کہ کے جاچکے ہیں جیل پولیس ملازمین نے متعدد بارر اعلی حکام سے درخواستیں کرنے کے باوجود پنجاب جیل خانہ جات کے ملازمین کے نہ سکیل اپگریڈ کیے جارہے ہیں اور نہ ہی تنخواہ میں اضافہ کیا جارہا ہے، 

آئی جی جیل خانہ جات اور ہوم ڈیاپارٹمنٹ کہ باربار اصرار کہ باوجود ہر بار فنانس ڈیپارٹمنٹ انکار کر دیتا ہے، پنجاب پولیس کا ریکروٹ یعنی جو نیا لڑکا بھرتی ہوتا وہ 28000 ہزار کے قریب سیلری لیتا ہے جب کہ جیل محکمہ کے ریکروٹ کی تنخواہ 18000 سے سٹارٹ ہوتی ہے۔ ملازمین نے جب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت نے ہوم سیکرٹری کو احکامات جاری کیے کہ جیل پولیس کی تنخواہیں پولیس کے برابر کی جائیں تاہم عدالتی حکم فنانس ڈیپارٹمنٹ نے نہ ماننے سے انکار کردیا۔ پنجاب جیل خانہ جات کے ملازمیں کی تنخواہیں دیگر صوبوں میں جیل خانہ جات میں ڈیوٹی دینے والوں سے 20 فیصد کم ہیں۔ اتنی زیادہ نا انصافی اور غیر مساوی سلوک کے بعد اب جیل پولیس حکام کا صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا ہے اور اس کا برملا اظہار احتجاج کی شکل میں سامنے بھی آچکا ہے۔ ریاست کی زمہ داری ہے کہ جیل پولیس کے مطالبات پر غور کرے اور کم از کم ان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مخلص کوشش ہی کرے۔ وزیر اعظم عمران خان اداروں میں اصلاحات کی بات کرتے ہیں یہ ان کے لیے کسی بھی ٹیسٹ کیس سے کم نہیں ہے۔ جیل پولیس کے ملازمین میں پایا جانے والا غم غصہ کا لاوا اگر ابل گیا تو اس کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں اعلی حکام بخوبی جانتے ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

سینیٹر عرفان صدیقی۔ اسلام آباد، راولپنڈی انتظامیہ توجہ دے۔۔۔کالم نگار: سید سردار احمد پیرزادہ

یہ ایک برس سے بھی کم کی بات ہے جب کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور راولپنڈی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے