میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) انسانی زندگی کے ساتھ خطرناک کھیل کھیلنے اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے مردہ جانوروں سے آئل اور پولٹری فیڈ بنانے والا کارخانہ سرکار اور ضلعی انتظامیہ میرپورخاص کی ناک کے نیچے یہ کام کیسے کر رہے ہیں؟میرپورخاص شوگر مل کے قریب ایل بی او ڈی سیم نالے کے ساتھ گنجان علاقے میں قائم یہ کارخانہ جس کو بظاہر پولٹری فیڈ بنانے کا کارخانہ کا نام دیا گیا ہے لیکن اس کے اندر بڑے جانوروں کی گردنیں مرغیوں کے پر اور ہڈیاں پڑی ہوئی ہیں۔ اس کارخانے سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی پھیل چکی ہے بلکہ بیمار مردہ جانوروں کی چربی سے آئل تیار کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایوان صحافت میرپورخاص کی ٹیم جب کارخانے کے اندر گئی تو کارخانے پر موجود ایک شخص نے بتایا کہ روزانہ دو تین سو کلو آئل تیار کیا جاتا ہے 40 روپے فی کلو فروخت کیا جاتا ہے اس کارخانے سے غیر معیاری مرغیوں کی فیڈ بھی تیار کی جاتی ہے جس سے مرغیوں سے انسانوں میں خطرناک بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ یہ کارخانہ نہ رجسرڈ ہے اور نہ ہی کمرشل بنیادوں پر حکومت کو کوئی ٹیکس ادا کرتا ہے۔ سندھ فوڈ اتھارٹی حکومت سندھ اور ضلعی انتظامیہ میرپورخاص اس عمل پر کاروائی کرے گی یا پھر سالوں سے چلنے والے مردہ جانوروں کی چربیوں ہڈیوں سے آئل اور فیڈ بنانے والہ یہ خارخانہ چلتا رہے گا۔
![]()