ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) نادرا حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ہزاروں پاکستانی 400 ڈالر کا مخصوص الاؤنس حاصل کرنے کے لیے خود کو افغان شہری کے طور پر رجسٹرڈ کروا رہے ہیں۔ پاکستانی شہری اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ رقم کے حصول کے لیے شہریت تبدیل کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق افغان جنگ کے بعد لاکھوں افغان شہریوں نے پاکستان کارخ کر لیا تھا۔ جس کے باعث پاک افغان سرحد پر بڑی تعداد میں مہاجر کیمپ قائم ہو گئے تھے۔ بعد ازاں ان مہاجرین کو ریلیف دینے کے لیے اقوام متحدہ کے مخصوص کمیشن کی جانب سے انکو 400 ڈالر الاونس دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق چئیرمین نادرا کا بتانا تھا کہ اب تک 10 ہزار لوگ اس مقصد کے لیے اپنی شہریت تبدیل کر چکے ہیں۔ واضح ہو کہ ان کی جانب سے یہ انکشافات اس وقت کئیے گئے جب وہ قائمہ کمیٹی کے سامنے حاضر تھے، شناختی کارڈ کے بلاک کئیے جانے کے مسئلے پر کمیٹی کو بریفنگ دے رہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ شہری جب پاکستانی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نادرا سے رجوع کررہے تھے تو ان کے شناختی کارڈ بلاک کر دئیے گئے ہیں۔ چئیرمین نادرا کا مزید بتانا تھا کہ ملک میں پندرہ لاکھ سے زائد مہاجرین آباد تھے جس میں سے بہت سے لوگ واپس جاچکے ہیں اور واپس جانے والوں کو 4 سو ڈالر معاوضہ دیا جارہا ہے تاہم اس کا ایک نقصان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہزاروں پاکستانی بھی اس رقم کے حصول کے لیے اپنی شہریت تبدیل کر چکے ہیں۔
![]()