حیدرآباد (رپورٹ: سبحان بلوچ) کورونا وائرس کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے ضلع حیدرآباد کیلئے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات اور احتیاطی اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے مقررہ سندھ اسمبلی کے ممبر سابق صوبائی شرجیل انعام میمن نے شہباز ہال حیدرآباد میں ضلعی انتظامیہ حیدرآباد کے متعلقہ افسران سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ وہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مربوط رابطے کو یقینی بنائیں کیونکہ یہ انسانی زندگی کا مسئلہ ہے اور کسی بھی افسر کی تھوڑی سی غفلت کی وجہ سے نقصان ہو سکتا ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حیدرآباد میں صورتحال کافی بہتر ہے اور لمس ہسپتال حیدرآباد میں موجود کورونا وائرس میں مبتلا مریض کی حالت بہتر ہے لیکن اگر کسی بھی دوسرے شہر میں کورونا کے مریض بڑھتے ہیں تو انہیں علاج کی سہولیات دینے کیلئے مکمل تیاریاں کی جائیں۔ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد عائشہ ابڑو نے بتایا کہ ٹنڈو محمد خان روڈ پر محکمہ لیبر کے 1504 فلیٹوں میں قرنطینہ مرکز بنایا گیا ہے جہاں 3000 بستروں کی سہولت موجود ہے۔ قرنطینہ مرکز میں سہولیات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حیسکو کی جانب سے 4 ٹرانسفارمرز لگائے گئے ہیں جبکہ قرنطینہ کیلئے فیڈر کی تعمیر پر 83 ملین روپے کی لاگت آرہی ہے جس کی فوری طور پر ضرورت ہے اور گیس کنیکشنز کیلئے بھی ڈیمانڈ ڈرافٹ جمع کرائے گئے ہیں جبکہ واسا کی جانب سے ٹینکرز کی صورت میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لمس ہسپتال میں آئیسولیشن وارڈ بھی قائم کیا گیا ہے جبکہ ایمرجنسی حالات میں دیگر نجی و سرکاری ہسپتالوں میں بھی متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ قرنطینہ مرکز میں بہت جلد تمام سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائیگا۔ ایم پی اے شرجیل انعام میمن نے محکمہ لیبر کے 1504 فلیٹوں میں فیڈر کی تعمیر پر خرچ ہونے والے 83 ملین روپے جاری کرانے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ فنڈز جاری ہونے کے بعد فوری طور پر تمام کمروں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا جس پر اے سی حیسکو عبدالستار سوہو نے انہیں بتایا کہ رقم جاری ہونے کے بعد 15 دن کے اندر فیڈر کی تعمیر کا کام مکمل ہو جائیگا۔ ایم پی اے شرجیل انعام میمن نے حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ خصوصی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے متعلقہ افسران سے معلومات حاصل کی اور انہیں ہدایت کی کہ حیدرآباد شہر میں پارکس اور پکنک پوائنٹس کی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ ہجوم والی جگہوں سے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریسٹورینٹس میں کھانے پر پابندی ہے جبکہ پارسل اور ہوم ڈلیوری پر کسی قسم کی پابندی نہیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو شہر میں صفائی ستھرائی کے ساتھ مچھر مار اسپرے کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے حیسکو افسران کو ہدایت کی کہ اس وقت شہر میں کمرشل سرگرمیوں پر پابندی ہے اور لوڈ بھی کم ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے جس پر اے سی حیسکو حیدرآباد نے بتایا کہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے حوالے سے حیسکو کی جانب سے غور کیا جا رہا ہے اور بہت جلد اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سبزی منڈی میں لوگوں کے رش کو تقسیم کرنے کیلئے سبزی منڈی کو عارضی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی تاکہ ایک جگہ پر زیادہ لوگ جمع نہ ہوں، انہوں نے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کو سائیٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے اجلاس کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فیکٹریز کے مزدوروں کی اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کا روزگار متاثر نہ ہو اس موقع پر ایس ایس پی حیدرآباد عدیل حسین چانڈیو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون لیاقت علی کلہوڑو، تمام تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔
![]()