ٹنڈو آدم (رپورٹ: رضوان احمد) تحصیل جام نواز علی کا گنجان آبادی والا شہر بیرانی کے عوام تمام بنیادی سہولیات سے محروم بجلی، گیس کی بلاوجہ لوڈشیڈنگ اپنی جگہ برقرار ہے تو دوسری جانب شہری پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں جبکہ اس حلقے میں ایک سینیٹر، ایک ایم این اے، دو ایم پی اے صاحبان ہیں ان کے فنڈز کہاں خرچ ہو رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اسکے علاوہ محکمہ پبلک ہیلتھ نے گیارہ سال قبل سویٹ واٹر کی فراہمی کے لیئے اٹھارہ کروڑ کی لاگت سے جمڑاوُ کینال سے پائپ لائن بچھائی تھی اور نئے تالاب بنائے تھے مگر شہریوں کو اس اسکیم سے کوئی فائدہ نہیں ہوا شہریوں کا منتخب اور محکمہ پبلک ہیلتھ کے کرپٹ افسران کے خلاف محکمہ نیب سے فوری تحقیقات کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل جام نواز علی کے گنجان آبادی والے شہر ٹاؤن کمیٹی بیرانی کے شہریوں کے لیے اٹھارہ کروڑ کی لاگت سے سویٹ واٹر فلٹر سپلائی اسکیم متعارف کرائی گئی تھی اور جمڑاوُ کینال سے بلیک اسٹیل پائپ لائن منظور کی گئی تھی مگر محکمہ پبلک ہیلتھ کے کرپٹ افسران نے ٹھکیدار اور سیاسی پنڈتوں سے مبینہ ملی بھگت کرکے میگا کرپشن کی اور بلیک اسٹیل کی جگہ لوہے کے ناکارہ اور پوسیدہ پائپ لگائے دیئے جس میں جب پانی چھوڑا گیا تو پائپ لائن جگہ جگہ سے پھٹ گئی اور پھر اس میں دوبارہ پانی نہیں چھوڑا گیا اور شہریوں کو پرانے تالاب سے ہی گندہ اور بدبودار پانی واٹر سپلائی کے زریعے گھروں میں سپلائی کیا جارہا ہے جو کسی بھی طرح سے پینے کے قابل نہیں ہے انتہائی گندے اور بدبو دار پانی کے استعمال سے شہری ہیپاٹائٹس، ڈائریا سمیت مختلف خطرناک امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں بیرانی کے شہریوں محمد علی مغل، دلدارشاہ، کامریڈ گل شیر مری، غلام محمد مری سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے چیئرمین نیب سے پرزور اپیل کی کہ وہ بیرانی کے شہر کے لئے متعارف کرائی گئی اسکیم اٹھارہ کروڑ کی لاگت سے بلیک اسٹیل کی جگہ لوہے کے بوسیدہ پائپ بچھانے اور مزکورہ اسکیم کی رقم میں میگا کرپشن کا فوری نوٹس لیں اور ملوث افسران کے خلاف فوری کاروائی کرکے مزکورہ اسکیم کو فعال کرائیں تاکہ بیرانی کے شہریوں کو گھروں تک سویٹ واٹر مہیا ہوسکے۔
![]()