چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) پنجاب کے ضلع حافظ آباد کے گاؤں اسد اللہ پود ڈاکخانہ ونیکے تارڑ کے غریب خاندان نے چترال آکر پناہ لی ہے۔ مغرب صابر اور ضیغم صابر ولد محمد صابر کا کہنا ہے کہ وہ غریب مزدور کار لوگ ہیں۔ وہ کسی سابقہ ایم پی اے کے ساتھ مزدوری کررہا تھا کہ حافظ آباد کے ایک چوہدری احسان الحق نے اسے اپنے ہاں بلاکر کام پر لگایا۔ اس نے میرا 38000 روپے قرضہ ناصر چیمہ نامی شحص کو دیا تھا۔ اس دوران میری چھوٹی بچی بیمار ہوگئی تو چوہدری سے علاج کیلئے خرچہ مانگا جس نے انکار کیا۔
ضیغم صابر کا کہنا ہے کہ چوہدری نے ان کی چالیس مرلے زمین پر بھی قبضہ جمایا ہے۔اس نے پہلے ہمیں کال کرکے یقین دہانی کرائی کہ آکر اپنی زمین واپس لے لیں جس کا ہمارے پاس ثبوت کے طور پر ریکارڈ بھی موجود ہے مگر جب وہاں جاتے ہیں تو وہ قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اس کی بیوی صائمہ نے بتایا کہ چوہدری میری چھوٹی بچی سے بھی مشقت کرواتا اور جب وہ بچی کو مارنے لگتا تو میں اسے بچانے کی کوشش کرتی مگر وہ ظالم مجھے بھی مارتا۔ میں نے اس کے باپ سے شکایت کی تو اس نے نہایت غلط بات کی کہ میرے بیٹے کے ساتھ ایک رات گزارو تو ہم تمھارا قرضہ بھی معاف کریں گے۔ مغرب صابر نے بتایا کہ چوہدری نے میرے والد کو زبردستی کام پر لگایا ہوا ہے اور اس سے اس ضعیف عمر میں بھی مشقت کرواتا ہے میرا والد نماز پڑھنے لگا تو چوہدری کے داماد جو پولیس میں ایس ایچ او ہے اسے گریبان سے پکڑ کر مسجد کے دروازے سے باہر نکالا کہ پہلے کام کرو نماز گھر میں پڑھو۔ انہوں نے بتایا کہ چوہدری نے ہماری چالیس مرلے زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے جس کی پورا گاؤں گواہی دینے کو تیار ہے۔ اس کے کاغذات بھی ہمارے پاس موجود تھے مگر چوہدری نے میرے ضعیف والد کو ورغلایا کہ وہ کاغذات مجھے دکھاؤ اگر اس میں کوئی ثبوت ملے تو میں آپ کی زمین واپس کروں گا مگر جب میرے والد نے ان کو سٹام پیپر (سند) دکھا دی تو چوہدری نے اسے پھاڑ کر آگ میں جلایا کہ ثبوت ہی حتم ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری زندگی حطرے میں پڑ گئی تو ہم وہاں سے بھاگ کر چترال آئے اور یہاں کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو درخواست دی جنہوں نے ہماری درخواست ڈی پی او حافظ آباد پنجاب کو بھیجی مگر ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے پنجاب کے ضلع حافظ آباد کے چوہدری احسان الحق اور اس کے بیٹے احتشام تارڑ سے بھی فون پر رابطہ کرکے ان کی موقف جاننے کی کوشش کی۔ چوپدری احسان اور اس کے بیٹے نے فون پر بتایا کہ ان لوگوں نے ان سے تقریبا ً تین لاکھ روپے قرض لئے ہیں اور اسے واپس نہیں کرتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے یا ان لوگوں سے کوئی تحریری رسید لی ہے تو جواب نفی میں تھا۔ حافظ آباد کے اس غریب حاندا ن کا کہنا ہے کہ ہمارے بوڑھے والدین اور دو بھائی پنجاب میں ہیں اور ان کی جانوں کو بھی حطرہ ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم عمران خان اور پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار سے اپیل کی ہے کہ ان کی زندگیاں حطرے میں ہیں ان کو جانی تحفظ دلایا جائے اور چوہدری احسان الحق کے مظالم سے ان کو نجات دلوانے کے ساتھ ساتھ ان سے ہماری چالیس مرلے زمین بھی واہ گزار کرائی جائے تاکہ ہم اپنی زمین پر اپنے لئے مکان بنا سکے۔ واضح رہے کہ یہ غریب لوگ ایک ماہ پہلے چترال آئے ہوئے ہیں اور یہاں کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر ہیں اور انکے چھوٹے بچوں کی تعلیم بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔
![]()