کراچی (ویب ڈیسک) کراچی سے لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہوگیا۔ آزادی مارچ حیدرآباد، سکھر، گھوٹکی سے ہوتا ہوا پنجاب میں داخل ہوگا۔ سہراب گوٹھ میں افتتاحی جلسے سے مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی قائدین نے خطاب کیا۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سہراب گوٹھ میں استقبالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہماری صفوں میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کیا اور حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخ کی۔ اس طرح کی کاروائیوں پر حکومت کو شرم آنی چاہیئے۔ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کے استعفی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم عمران خان کے استعفی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے۔ عمران خان کو ہر صورت استعفی دینا پڑے گا۔ جے یو آئی ف سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے آج کے دن قربانی دی اور کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر کے حوالے سے موجودہ حکومت کے معاہدات اور سودے کو تسلیم نہیں کرتے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ ہمیں اس ملک کی سیاست کا تجربہ ہے۔ ہم ملک کے آئین اور جمہوریت کے ذمہ دار رہے ہیں۔ ہم 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات اور اس کے نتیجے قائم ہونے والی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مزید ہمیں کیا کرناہے اس کا فیصلہ اسلام آباد پہنچ کر کیا جائے گا۔
![]()