راولپنڈی (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا تو انتقام لیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی ادارہ سے محاذ آرائی کے بغیر پرامن مارچ کیا جائے گا اور اداروں سے تصادم نہیں چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ ہم سے ہمارا حق نہ چھینے، حق چھینا گیا تو آج نہیں تو کل انتقام لیں گے۔ جے یو آئی رہنما نے کہا کہ ووٹ چوری کرکے جبرا مصلت ہونے کا کوئی حق نہیں، ہم نے پہلے دن سے ان کا حق حکمرانی تسلیم نہیں کیا، ان کو مستعفی ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم ناجائز اور نااہل حکومت کو چلتا کرنے کیلئے تیار ہے اور پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 27 اکتوبر سے اسلام آباد کے لیے مارچ شروع ہوجائے گا جو 31 کو اسلام آباد میں داخل ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مذکرات کے لئے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ آزادی مارچ ختم کرنے حوالے سے کوئی تجویز ہے تو سامنے لائی جائے پھر غور کریں گے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ حکمرانوں نے پہلے کہا کہ کنٹینر دیں گے اب کہتے ہیں سڑکوں سے نہیں گزرنے دیں گے اب عوام حقیقی انداز میں آئے گی اس لئے ایوانوں میں ہلچل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کشمیر فروش ہیں، انڈیا کو آرٹیکل 370 ہٹانے سے روکنے کے لئے کوئی سفارتکاری نہیں کی، ہم امریکہ کا اعتماد نہیں حاصل کر پائے اور دوست ممالک نے ہمیں ووٹ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے صرف باہر جاکر تقریر اچھی کی لیکن پاکستان مطلوبہ ووٹ حاصل نہ سکا اور اب کشمیر فروشوں کو مگر مچھ کے آنسو بہانے کی ضرورت نہیں۔ جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ اب بھی وقت ہے حکمران مستعفی ہوں اور نئے الیکشن کرائیں ورنہ حکومت پھنستی جا رہی ہے۔ کہا جارہا تھا کہ لوگ باہر سے نوکری کرنے پاکستان آئیں گے لیکن صرف دو بندے نوکریاں کرنے پاکستان آئے، ایک چئیرمین ایف بی آر اور دوسرا گورنر سٹیٹ بنک۔ ہمیں ان دونوں کی تعیناتی پر اعتراض ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے مواقعے کم آئے ہیں جب حکومت کے خلاف قومی سطح پر اس قدر یکجہتی پائی گئی ہو۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی قابل غور تجویز نہیں آئی تاہم جب تک مارچ پر یکسوئی کے ساتھ کام جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 15 ملین مارچ، کامیاب ترین مارچ کرکے ثابت کیا ہے کہ ہم پرامن ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کا مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ تنظموں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے آزادی مارچ کی حمایت کی ہے اور اس مارچ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مارچ میں شرکت کرنے والی جماعتوں کا نام نہیں بتایا۔ جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ کوئی ادارہ ہمارے پرامن جذبات کو کمزوری نہیں سمجھے، یہ ملک ہم سب کا ہے اور آئین پاکستان کے درمیان ایک میثاق ملی ہے، قوم کا ووٹ چوری کرکے حکمراں بننے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس حکومت کو پہلے دن سے حق حکمرانی تسلیم نہیں کیا، ان کو مستعفی ہونا پڑے گا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں معیشت برباد کردی گئی، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو ایک کروڑ نوکریوں کی امید دلائی گئی لیکن ایک سال میں 15 سے 20 لاکھ نوجوانوں کو بے روز گار کردیا گیا، حکومتی نااہلی کی وجہ سے ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری تاجر برادری سراپا احتجاج ہیں، پاکستان کی تاریخ میں سب سے کامیاب ترین ہڑتال تاجر برادری نے کی اور ایک مرتبہ پھر وہ ملکی سطح پر ہڑتال کو جارہے ہیں، ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جارہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ دہری شہریت رکھتے ہیں اور عالمی اداروں کے ملازم ہیں، پہلے تو یہ طے کرنا ہوگا کہ ان کی نظرمیں پاکستان کا مفاد اول ہے یا نہیں، ملکی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا خارجہ پالیسی بری طرح ناکام ہے، امریکا کا اعتماد حاصل نہیں کرسکے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکا نے پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کیا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے دعوی کیا کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین مایوس کن رہا، انہیں چینی صدر سے ملاقات کے صرف 20 منٹ ملے اور اس ملاقات کے لیے بہت کوششیں کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اتھارٹی کو آرڈیننس سے بنانا ناقابل قبول ہے، اس طرح کے اقدامات سے چین جیسے دوست کے اعتماد کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن کی پاکستان آمد پر کوئی اعتراض نہیں لیکن برطانیہ نے کئی دہائی ہمیں غلام بنائے رکھا جس پر وہ معافی مانگیں۔
![]()