کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) تنظیم اساتذہ کے تحت سندھ بھر میں شروع ہونے والی توسیعِ دعوت مہم کے موقع پر صوبائی صدر پروفیسر ابو عامر اعظمی، صوبائی سیکرٹری نشر و اشاعت نوشاد رمضان، کراچی ڈویژن کے صدر شفیق الرحمن عثمانی اور ہائر فورم کے صدر پروفیسر مظہر حسین نے جمعیت الفلاح ہال صدر کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔پروفیسر ابوعامر اعظمی نے کہا کہ سندھ بھر میں تعلیمی نظام زبوحالی کا شکار ہوتا جا رہا ہے، اساتذہ کی تنخواہیں اور پرموشن کو نظرانداز کیا جارہا ہے، نصابی کتب میں غیروں کے کہنے پر تبدیلی ہورہی ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم ملک بھر کے اساتذہ تک اپنی بات پہنچائیں اور انہیں یقین دلائیں کہ ان کے مسائل کے حل کیلئے تنظیم اساتذہ ہر فورم پر آواز اٹھائے گی اور نظریہ اسلام کے خلاف ہونے والے ہر اقدام کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔ آج ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے اساتذہ کو پورے سندھ میں منظم کرنے کیلئے توسیع ِ دعوت مہم کا آغاز کر رہے ہیں جوکہ یکم تا 10 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ تنظیم اساتذہ کے ممبران اسکول کالج یونیورسٹی اور مدارس کے اساتذہ سے اپنے اضلاع میں ملاقاتیں کرینگے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دینگے، مہم کے آخری حصے میں ہرضلع ایک تعلیمی کانفرنس یا سیمینار منعقد کرے گا۔ تنظیم اساتذہ صوبہ سندھ کے سیکرٹری نشر و اشاعت نے کہا کہ ایک طرف حکومت تعلیم کے حولے سے بلند بانگ دعوے کرتی ہے اور دوسری طرف اخباری اطلاع کے مطابق سندھ میں 8 ہزار سرکاری اسکول بند ہوچکے ہیں جو قابلِ مذمت ہے ضلع مٹیاری اور دیگر شہروں کے اساتذہ کو 2012 سے تنخواہیں نہیں دی جارہی ہے۔ اسی طرح کئی تعلیمی اداروں خاص طور پر حاجی عبداللہ ہارون کالج لیاری میں مضامین پڑھانے کیلئے اساتذہ موجود نہیں ہیں اور کچھ کالج میں مطلوبہ تعداد سے زیادہ اساتذہ موجود ہیں، خدارا تعلیم کو کھیل نہ بنائیں، کچھ سنجیدہ کوشش کی جائے۔ کراچی ڈویژن کے صدر نے اس موقع کہا کہ میٹرک کا نتیجہ آچکا ہے مگر اب تک کراچی بورڈ نے نویں جماعت کا نتیجہ ظاہر نہیں کیا، آخر اس تاخیر کی وجہ کیا ہے کیوں طلبہ اور والدین کو ذہنی اذیت سے گزارا جارہا ہے۔ چیئرمین بورڈ کو اس بات کا جواب دینا ہوگا۔ نصابی کتب میں غیروں کے کہنے پر تبدیلی کی جارہی ہے تنطیم اساتذہ اس کی پُرزور مذمت کرتی ہے، اساتذہ برادری سے درخواست ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو نظریہ اسلام اورنظریہ پاکستان سے روشناس کراتے رہیں۔ ہائر فورم کے صدر پروفیسر مظہر حسین نے سرکاری جامعات کی مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر تعلیمی گرانٹ میں مسلسل کمی کر رہی ہے خاس طور پر جامعہ کراچی کی گرانٹ میں 21 کروڑ روپے کی کٹوتی کردی گئی ہے جوکہ قابلِ مذمت ہے، جس کی وجہ سے جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ مشکلات سے دوچار ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ جامعہ کراچی کے تعلیمی گرانٹ میں کٹوتی کو روکا جائے اور تعلیمی فنڈمیں مناسب اضافہ کیا جائے۔
![]()