Home / اہم خبریں / کراچی میں شروع کی جانے والی صفائی مہم کو بھی سیوریج میں بوریاں اور پتھر ڈالنے والے ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی

کراچی میں شروع کی جانے والی صفائی مہم کو بھی سیوریج میں بوریاں اور پتھر ڈالنے والے ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں شروع کی جانے والی صفائی مہم کو بھی سیوریج میں بوریاں اور پتھر ڈالنے والے ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ کراچی کے عوام ان سازشی اور کراچی دشمن دہشتگردوں کے خلاف موبائل سے تصاویر اور فوٹیج بنا کر ان کو گرفتار کرانے میں سندھ حکومت کی مدد کریں، ایسا کرنے والے کو ایک لاکھ روپے نقد انعام دیا جائے گا اور اس کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ شہر میں 4 لاکھ سے زائد مین ہال اور ہزاروں کلومیٹر کی سڑکوں پر حکومت پہرا نہیں دے سکتی۔ ماضی میں سیوریج کی لائنوں میں بوریاں، رضائیاں، تکیے اور پتھر ڈالنے والی ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ کچھ اور قوتیں بھی اب ان کے ساتھ دے رہی ہیں۔ شہر میں صفائی مہم تیزی سے جاری ہے اور تمام ڈسٹرکٹ اور بالخصوص سینٹرل، ویسٹ اور کورنگی میں بیک لاک اٹھانے کا کام دن رات جاری ہے۔ جہاں جہاں سیوریج کے مسائل ہیں ان کو بھی حل کیا جاریا ہے۔ محکمہ محنت کے زیر انتظام چلنے والے ولیکا اسپتال اور باوانی ڈسپنسری سائٹ میں مریضوں کو علاج معالجہ کی تمام سہولیات کی فراہمی جاری ہے اور ان مریضوں کو یہاں سے مفت ادویات کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم جہاں ڈاکٹروں اور بالخصوص لیڈی ڈاکٹرز کی کمی کا سامنا ہے اس کو فوری پورا کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت اور قبل ازیں سائٹ میں ولیکا اسپتال اور باوانی ڈسپنسری اور بعد ازاں بلدیہ ٹاؤن میں جاری صفائی مہم کے اچانک دورے کے موقع پر کیا۔ وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہر بھر میں سندھ حکومت کی جانب سے صفائی مہم 3 روز سے زور و شور سے جاری ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر بہت بڑا ہے اور بالخصوص ڈسٹرکٹ سینٹرل، کورنگی اور ویسٹ میں بڑے پیمانے پر بیک لاک موجود ہونے کے باعث وہاں وقت درکار ہے لیکن انشاء اللہ ہم ایک ماہ کے اندر اندر ان تمام بیک لاک کو صاف کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ماضی میں کراچی کی سیوریج لائنوں میں بوریاں اور رضائیاں اور پتھر ڈال کر اس شہر کے شہریوں کو پریشان کیا جاتا رہا ہے اس بار اس مہم کو ناکام بنانے کے لئے بھی یہ دشمن عناصر سرگرم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود آج ڈسٹرکٹ ویسٹ میں گاڑی روک کر ایسی تصاویر بنائی ہیں جب رات کو صاف کئے گئے روڈ کو کچھ عناصر کچرا ڈال کر دوبارہ سڑک پر پھیلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ ٹاؤن میں بھی میرے صفائی مہم کے جائزے کے دوران یہ شکایات ملی کہ رات کو تمام کچرہ صاف کردیا گیا تو صبح کئی روز پرانا کچرے کو دوبارہ سڑکوں پر پھیلا دیا گیا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں 4 لاکھ سے زائد مین ہالز اور ہزاروں کلومیٹر کی سڑکیں اور گلیاں ہیں اور حکومت ان سب پر پہرا نہیں دے سکتی۔ سعید غنی نے کہا کہ اب کراچی کو صاف کرنے کی اس مہم میں میڈیا کے ساتھ ساتھ کراچی کے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ایسے عناصر جو اس مہم کو ثبوتاژ کرنے کی سازش کررہے ہیں اور سڑکوں پر کچرا پھینک رہے ہیں اور سیوریج کی لائنوں میں بڑے بڑے پتھر، بوریاں اور دیگر رکاوٹیں ڈال رہے ہیں ان کے خلاف اس مہم میں ہمارا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور بالخصوص وزیر اعلیٰ سندھ نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جو بھی عوام ایسے عناصر کو پکڑوانے میں ہماری مدد کرے گا اس کو ایک لاکھ روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس کے لئے 2 واٹس اپ نمبرز کا اجراء کیا جارہا ہے اور عوام ایسے سازشی اور عوام دشمن عناصر کی ویڈیوز اور تصاویر بنا کر ہمیں ان نمبرز پر بھیجیں تاکہ انہیں گرفت میں لایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ واٹس اپ نمبرز 0300-0074296 اور 0300-0084296 ہیں اور ان نمبروں پر تصاویز اور ویڈیوز بھیجنے اور ایسے عناصر کی گرفتاری میں مدد کرنے والوں کا نام مکمل صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس شہر میں وراثت کے دعویداروں نے اس شہر کو تباہ کردیا ہے اور مزید تباہ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر جس میں ماضی میں ایم کیو ایم شامل رہی ہے سیوریج کی لائنوں میں پتھر اور رضائیاں اور بوریاں ڈال کر پہلے ان کو بند کرتے ہیں اور پھر اسی پر سیاست کرتے رہے ہیں اور آج ان کے ساتھ کچھ اور قوتیں جو اپنے آپ کو اب اس شہر کی دعویدار ثابت کررہی ہیں وہ بھی ان مکرہ کام میں ملوث ہوگئی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ان سازشوں میں کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا ہو، عام شہری ہو یا کسی ادارے کا ملازم کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلے میں قانون واضح ہے اور ہم نے ڈپٹی کمشنرز اور تمام ڈی ایم سیز کے میونسپل کمشنرز کو ان قوانین کے تحت ان عناصر کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج اور قانونی کارروائیوں کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ اس شہر میں کچرے کے بیک لاک کا خاتمہ کیا جائے اور کچرہ لینڈ فل سائیڈ پر منتقل کیا جائے اور اس سلسلے میں خود وزیر اعلیٰ سندھ اس پوری مہم کو نہ صرف مانیٹر کررہے ہیں بلکہ انہوں نے کابینہ کے 18 ارکان کی مختلف اضلاع میں اس مہم کی نگرانی کی باقاعدہ ڈیوٹیاں بھی لگادی ہیں۔ قبل ازیں صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے منگل کی صبح سائٹ میں واقع کلثوم بائی ولیکا اسپتال اور اس سے متصل باوانی ڈسپنسری کا اچانک دورہ کیا اور وہاں مختلف ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر نے اسپتال میں ایکسرے، سٹی اسکین، الٹرا ساؤنڈ، میڈیکل اسٹور سمیت دیگر کا بھی دورہ کیا اور وہاں مریضوں سے ان کو دی جانے والی سہولیات کے حوالے سے آگاہی لی۔ صوبائی وزیر نے مریضوں کو دی جانے والی مفت ادویات کی جانچ پڑتال کی اور ان کے برانڈ اور ان کی انتہا کی تاریخ سمیت دیگر کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے اسپتال کے قریب واقع باوانی ڈسپنسری سائٹ کا بھی دورہ کیا اور وہاں صفائی ستھرائی کے ناقص ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈسپنسری میں موجود خواتین نے صوبائی وزیر کو ڈسپنسری میں لیڈی ڈاکٹرز نہ ہونے اور اس کے باعث انہیں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ جس پر صوبائی وزیر نے فوری طور پر سیسی کے میڈیکل ایڈوائیزر کو فون کرکے ڈسپنسری میں لیڈی ڈاکٹرز کی فوری تعیناتی کے احکامات دئیے۔ صوبائی وزیر نے بعد ازاں ڈسٹرکٹ ایسٹ میں بلدیہ ٹاؤن میں جاری صفائی مہم کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی اور پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ ویسٹ کے صدر لیاقت آسکانی اور دیگر پارٹی رہنماء بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ یہاں گذشتہ رات کو سڑکوں سے تمام کچرے کو مکمل طور پر صاف کردیا گیا تھا لیکن صبح دوبارہ کسی نے کئی روز پرانا کچرہ پوری سڑک پر پھیلا دیا اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہاں کوئی صفائی مہم شروع نہیں ہوئی ہے۔ صوبائی وزیر نے فوری طور پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو اس حوالے سے ہدایات دیتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی ہدایات کی۔ اس موقع پر علاقہ مکینوں نے سیوریج کے مسائل پر صوبائی وزیر سعید غنی کی توجہ منبدول کرائی، جس پر انہوں نے فوری طور پر علاقہ ایکس ای این کو طلب کیا اور ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان کو فون کرکے یہاں کے مسئلے کو جلد سے جلد حل کرانے کی ہدایات دی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر سعید غنی نے لیاری میں ایم آر ڈی تحریک کے سرگرم کارکن اور پیپلز پارٹی کے سابق یوسی ناظم رمضان سنگھار کی وفات پر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کے لئے ان کے گھر پہنچیں اور مرحوم کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان، شان مسعود قیادت کریں گے

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے