کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) محرم الحرام میں ادارہ فراہمی و نکاسی آب کی کار کردگی پر سوالیہ نشان اٹھ گئے۔ وزیر بلدیات بھی بے بس، 08 اور 09 محرم کے بعد عاشورہ کے روز بھی شہر کے بیشتر علاقوں میں سیوریج کا پانی سڑکوں پر بہتا رہا واٹر بورڈ کے افسران نے اپنے فون بھی بند رکھے۔ علم، زولجناح، تعزیوں اور ماتمی جلوس جن میں شیعہ اور سنّیوں کے علیحدہ علیحدہ روٹس پر ابلتے گٹرروں کا پانی جمع تھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے جان بوجھ کر مذہبی رسومات کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔ واٹر بورڈ انتظامیہ نے نام نہاد ٹاسک فورس تشکیل دی تھی جس کا کام شہر میں سیوریج کی شکایات دور کرنا تھا جس کا سربراہ چیف انجینئر سلیم صدیقی کو بنایا گیا تھا۔ محرم کے مزکورہ 3 روز تک ان کا فون بند ہی ملا جبکہ ایکسیئن لانڈھی، ملیر، لیاقت آباد، گلشن سمیت متعد سیوریج کے افسران کے فون نمبر محرم کی 7,8,9 اور 10 کو بند ملے۔ سلیم صدیقی عام دنوں مین بھی فون اٹھانے کی زحمت نہیں کرتے، بلدیہ کورنگی کے علاقے ملیر جعفر طیار سوسائیٹی میں عزاداران نے احتجاجاََ جلوس روک دیا تھا جہاں سیوریج کا پانی امام ابرگاہوں گے گرد جمع تھا اور درجنوں مساجد کے راستے بھی سیوریج کے باعث بند تھے۔ بلدیہ کورنگی نے بھی ناقص صفائی کے انتظامات کیے تھے۔ ہر طرف کچرے کی بھر مار تھی اسی لیے جلوس روک کر احتجاج کیا گیا اور بلدیہ کورنگی کے چیرمین نیئر رضا اور ایم ڈی واٹر بورڈ کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ لانڈھی نمبر 4 ایریا 3-B اور 37-C کے درمیان سے گزشتہ5 روز سے سیوریج کا پانی تعزیہ اور علم کے جلوس کے روستوں پر بہہ رہا ہے اس کی شکایات کے لیے لانڈھی میں سیوریج کا نہ کوئی افسر دفتر میں موجود ہے نہ عملہ نظر آیا جبکہ افسران نے اپنے فون بھی بند کر دیے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے امسال واٹر بورڈ انتظامیہ نے جان بوجھ کر مذہبی رسومات کو سبوتاژ کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔
![]()