Home / اہم خبریں / پی آئی اے انتظامیہ کا موجودہ فیصلہ سپریم کورٹ نے 24 دسمبر 2018 کو جو سوموٹو ایکشن لیا تھا اس میں ملازمین کو برطرف کرنے کی بات شامل نہیں تھی۔ پی آئی اے ایکشن کمیٹی کی پریس کانفرنس

پی آئی اے انتظامیہ کا موجودہ فیصلہ سپریم کورٹ نے 24 دسمبر 2018 کو جو سوموٹو ایکشن لیا تھا اس میں ملازمین کو برطرف کرنے کی بات شامل نہیں تھی۔ پی آئی اے ایکشن کمیٹی کی پریس کانفرنس

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن ایکشن کمیٹی (پی آئی اے ) کی جانب سے شاہدہ پروین نے کہا ہے کہ پی آئی اے ہیومن ریسورس کی ذمہ داری ہے کہ تمام متعلقہ اسناد کاغذات کی جانچ پڑتال کرے اور وہ مکمل ہوں جبکہ چھ مہینے کی آزمائیشی مدت درکار ہوتی ہے۔ ہر دور میں پی آئی اے کے ہر ڈپارٹمنٹ کی ایک بنیادی ضرورت تعلیمی قابلیت ہوتی ہے پی آئی اے سے نکالے گئے ملازمین کی سروس 15 سے 30 سال ہو چکی ہے ڈپارٹمنٹ کی چھ ماہ آزمائیشی مدت کے بعد ایچ آر ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری تھی کہ ملازمین کے اسناد کی تحقیقات کرتے۔ ان خیالات کا اظہار منگل کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر عارف خان روحیلہ، انور اعوان، کیپٹن اسعد الیاس، عطیہ افتخار و دیگر بھی موجود تھے انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے اپنی تمام کوتاہی اور نااہلی کو سپریم کورٹ کا فیصلہ سمجھے بغیر تجربے کار اور ادارے کے بے شمار کورسز تربیت یافتہ ملازمین کو جعلی دستاویزات کا نام دے کر نکال دیا جبکہ یہ تمام کورسز اور تربیتی پروگرام انکی قابلیت کے مطابق ہوتے رہے ہیں جیسا کہ کپتان جب جہاز اڑاتا ہے تو اس کی قابلیت روٹ راٹنگ اور فلائنگ راٹنگ پر منحصر ہے۔ جب کپتان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ بھی اپنی ڈگری کا ذکر نہیں کرتا بلکہ اپنے تجربے کی بات کرتا ہے کیبن کریو اپنے تجربے، کورسز، صلاحیتوں، سول ایوی ایشن کی منظوری اور امتحان کے مراحل سے گزر کر جہاز پر اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتا ہے انکا مزید کہنا تھا کہ گراؤنڈ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین بنیادی اسناد پر بھرتی ہونے کے بعد پی آئی اے کے گراؤنڈ اسکول سے مختلف ٹیکنیکل کورسز پاس کرکے سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ترقی حاصل کرتے ہیں اور اپنے متعلقہ شعبوں میں مہارت حاصل کر چکے ہیں جبکہ یہ ملازمین بیرون ملک سے بھی ٹیکنیکل اسناد حاصل کر چکے ہیں جو کہ انکے کام میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ پی آئی اے نے بغیر کسی تحقیق کے ملازمین کو برطرف کر دیا جبکہ بے شمار ملازمین ایسے ہیں جو عدالت سے بھی جیت چکے ہیں اور کچھ ملازمین کے کیس عدالت میں چل رہے ہیں کچھ ایسے ملازمین بھی ہیں جنہیں انکے کیس کے مطابق سزا بھی مل چکی ہے جس میں انکریمنٹ اور دیگر سزائیں شامل ہیں لیکن پی آئی اے انتظامیہ کا موجودہ فیصلہ سپریم کورٹ نے 24 دسمبر 2018 کو جو سوموٹو ایکشن لیا تھا اس میں ملازمین کو برطرف کرنے کی بات شامل نہیں تھی بلکہ یہ کہا گیا تھا کہ فیصلے میں ملازمین کی اپیل کو سنا جائے اور سابق چیف جسٹس پاکستان نے اس بات کو تسلیم بھی کیا تھا کہ میرا یہ قطعی مقصد نہیں تھا کہ ملازمین کو برطرف کر دیا جائے جبکہ انتظامیہ نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے تمام ملازمین کو یک جنبش قلم برطرف کردیا جو توہین عدالت بھی ہے انہوں نے موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، پی آئی اے انتظامیہ اور بالا حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے برطرف ملازمین کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ وہ اپنے گھر کو بہتر طریقے سے چلا سکیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

IoBM Squash Satellite Championship 2026 Concludes Successfully in Karachi

By Zeeshan Hussain Karachi: The inaugural IoBM Squash Satellite Championship 2026 concluded successfully after four …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے