کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) بھارتی جیل میں قیدیوں کے تشدد سے جاں بحق پاکستانی قیدی شاکر اللہ کی لاش کے حوالگی کے لیے مقتول کے بھائی شہزاد خان نے کراچی پریس کلب کے باہر اہل خانہ کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے بھائی کے بہیمانہ قتل پر عالمی عدالت انصاف میں کیس چلایا جائے۔ گزشتہ روز بھارت کی جے پور جیل میں 2003ء سے قید شاکر اللہ کو پاکستانی قیدی ہونے کی بنا پر قیدیوں نے تشدد کرکے مارڈالا تھا۔ شاکر اللہ 2003 میں غلطی سے سرحد پار کرکے سیالکوٹ سے بھارت میں داخل ہوا تھا، جہاں وہ گرفتار کرلیا گیا اور گزشتہ 16 سال سے بھارت کی قید میں تھا۔ کراچی پریس کلب کے باہر اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاکر اللہ کی لاش کو اہل خانہ کے حوالے کرنے کے لیے بھارت سے بات کرے۔ مقتول کے بڑے بھائی شہزاد خان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کو بھارتی جیل میں پاکستانی ہونے کی بناء پر تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ گزشتہ 16سال سے شاکر اللہ کو قونصلر رسائی بھی نہیں دی گئی تھی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان اس کیس کو عالمی عدالت انصاف میں چلائے اور قتل کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلائے۔ شہزاد خان نے کہا کہ وہ مسیحی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے بھائی شاکر اللہ نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ مسیحی برادری سے تعلق کی بنا پر ہم پوپ فرانسس و مسیحی برادری سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارا ساتھ دیں۔ ہم غریب فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ وہ ہمارے بھائی شاکر اللہ کی لاش حوالگی کے لیے کردار ادا کریں۔
![]()