کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) امیرِ کراچی تحریک لبیک پاکستان علامہ رضی حسینی نقشبندی نے کراچی کے 11 مزارات کی بجلی منقطع کیے جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزاراتِ اولیاء کی بجلی فوری طور پر بحال کی جائے۔ محکمہ اوقاف کی غفلت، نااہلی اور کرپشن کے باعث کراچی کے 11 مقدس مزارات تاریکی میں ڈوب گئے، جس کی وجہ سے زائرین اور عاشقانِ اولیاء میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اولیائے کرام کے مزارات ہماری عقیدتوں کے مراکز ہیں، اولیائے کرام کے مزارات کی بجلی بند ہونا محکمہ اوقاف کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ عمران خان وزیراعظم بننے سے پہلے مزارات کی چوکھٹ چومتے رہتے تھے اور آج ان کی حکومت میں مزارات کی بجلی کاٹی جارہی ہے۔ امیرکراچی تحریک لبیک پاکستان علامہ رضی حسینی نے مزید کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف کراچی کے مزارات سے چندوں کی مد میں محکمہ اوقاف کو ماہانہ تین کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے جو سالانہ چھتیس کروڑ تک جاپہنچتی ہے، مزارات سے متصل مکانات اور دکانوں کے کرایوں کی آمدنی اس کے علاوہ ہیں، بعض بڑے مزارات پر جوتے سنبھالنے کے ٹھیکے میں کروڑوں میں دیئے جاتے ہیں، افسوس کہ محکمہ اوقاف کروڑوں کی آمدنی کے باوجود مزارات پر حاضری دینے والی اہلسنت عوام کو کوئی سہولت دینے کو تیار نہیں۔ علامہ رضی حسینی نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت مزارات کی بجلی کا بل ہی نہیں بھر سکتی تو پھر مزارات کو اصل وارثین کے حوالے کیا جائے۔ عوام کا بھی یہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ مزارات کو محکمہ اوقاف کے کرپٹ، چور اور بےایمان افسران کے چنگل سے نکال کر جید علمائے اہلسنت کی نگرانی میں دیا جائے۔ کیوںکہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ جن مزارات کا انتظام علمائے اہلسنت کے پاس ہے وہاں بدعات، خرافات اور بدانتظامی کا نام و نشان نہیں۔ ٹی ایل پی چاہتی ہے کہ مزارات سے تمام اقسام کی بدعات، خرافات اور بدانتظامی کا خاتمہ کیا جائے، مزارات پر جاری آج کل کا ملنگ کلچر اکابر صوفیاء کی تعلیمات کے منافی ہے۔ امیرکراچی نے مزید کہا کہ مزارات کے مسائل کے حل کے لیے ٹی ایل پی سندھ اسمبلی میں بھرپور آواز اٹھائے گی اور اگر مزارات کی بجلی فوری بحال نہ ہوئی تو پھر دیگر آپشن استعمال کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
![]()