تازہ ترین
Home / اہم خبریں / بھارتی عسکری جارحیت کے علاوہ آبی جارحیت میں بھی پیش پیش دریائے چناب پر ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 10 ہزارکیوسک فٹ رہ گئی نہریں خشک

بھارتی عسکری جارحیت کے علاوہ آبی جارحیت میں بھی پیش پیش دریائے چناب پر ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 10 ہزارکیوسک فٹ رہ گئی نہریں خشک

ہیڈ مرالہ (رپورٹ: اویس احمد رضا) جب سے پاکستان معرض وجود میں ہے تب سے ہی بھارت پاکستان کے خلاف جارحیت سے کام لینے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتا آرہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1971ء اور 1965ء میں بڑی جنگیں بھی ہو چکی ہیں جس میں بھارت کو جانی و مالی بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا، آئے روز ورکنگ باؤنڈری پر بھارت سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے جس سے متعدد پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں اور کئی مویشی بھی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ بھارت نہ صرف بذریعہ بھاری گولا بھاری سے جارحیت کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے بلکہ وہ آبی جارحیت کے ذریعے بھی پاکستان کو پانی کی فراہمی جوکہ پاکستان کا قانونی حق ہے اس سے محروم رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہے، بارشوں کے دوران ہی پانی پاکستان میں داخل ہوتا ہے کیونکہ بارشوں کا پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے بھارت کے لئے ذخیرہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے تو وہ سیلابی پانی پاکستان کی طرف بھیج دیتا ہے جس سے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان سے گزرنا پڑتا ہے، دریائے چناب پاکستان اور بھارت کا بڑا دریا ہے، یہ بھارت کے صوبہ ہیماچل پردیش لاہول اور سپیٹی ڈسٹرکٹ سے بہتا ہوا جموں و کشمیر پنجاب سے بہتا ہوا پاکستان سے گزرتا ہے۔ دریائے چناب کا پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مقرر کردیا گیا ہے اس کے باوجود معاہدے کے تحت 55 ہزار کیوسک پانی پاکستان کو روزانہ ملنا چاہئے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دریائے چناب خشک ہو چکا ہے جس میں اس وقت پانی کی آمد صرف تقریباً 10 ہزارکیوسک کے قریب ہے۔ مرالہ کے مقام سے دو نہریں بھی نکلتی ہیں ان میں مرالہ راوی لنک نہر مکمل طور پر خشک ہے جبکہ نہر اپر چناب میں بھی پانی انتہائی کم ہے جو کہ پاکستان کی زرعی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے